بلوچستان نیشنل پارٹی اور ایچ ڈی پی کے زیر اہتمام حلقہ بندیوں کے حوالے سی مشترکہ احتجاجی مظاہرہ کیاگیا

اتوار جون 19:40

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) بلوچستان نیشنل پارٹی اور ایچ ڈی پی کے زیر اہتمام مشترکہ احتجاجی مظاہرہ حلقہ بندیوں کے حوالے سے پریس کلب کے سامنے کیا گیا مظاہرے سے بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ ‘ ایچ ڈی پی کے وائس چیئرمین رضا وکیل ‘ بی این پی کے موسی بلوچ ‘ بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر جالب بلوچ ‘ مرکزی کمیٹی کے ممبران غلام نبی مری ‘ خورشید جمالدینی ‘ شمائلہ اسماعیل ‘ ضلعی صدر احمد نواز بلوچ ‘ جنرل سیکرٹری آغا خالد شاہ دلسوز ‘ناصر علی شا ہ ہزار نے خطاب کیا اس موقع پر لقمان کاکڑ ‘ ضلعی سیکرٹری اطلاعات یونس بلوچ ‘ ڈاکٹر رمضان ہزارہ ‘ یوسف رند ‘ زبیر جان و دیگر موجود تھے مقررین نے کہا کہ کوئٹہ میں حلقہ بندیوں کی بحالی کے حوالے سے آج کا مظاہرہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ کوئٹہ میں اس سے قبل جو حلقہ بندیاں کیا گئیں تھیں جو محکمہ شماریات ‘ الیکشن کمیشن اور دیگر سرکاری اداروں نے آبادی کے تناسب کو ملحوظ خاطر رکھ کر کوئٹہ میں حلقہ بندیاں کیں تھیں لیکن اب سیاسی تنگ نظر جماعت کی ایماء پر آپس میں دست و گریبان کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جو انتہائی افسوسناک عمل ہے ہم نے ہمیشہ قانون ‘ آئین اور جمہوری کو پروان چڑھانے کیلئے جدوجہد کی ہے مقررین نے کہا کہ کوئٹہ میں تمام اقوام کو ان کے آبادی کے تناسب سے صوبائی و قومی اسمبلی کی نشستیں ملیں جب ہم کہتے ہیں کہ سریاب سب سے بڑی پرانی گنجان آباد آبادی ہے مردم شماری و خانہ شماری کے بعد یہ بات درست ثابت ہوئی اب سریاب کی تین صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشست ہے اس بلوچوں کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں اس کے باوجود ہم چاہتے ہیں کہ کوئٹہ میں تعصب ‘ تنگ نظری کی سیاست نہ کی جائے اقوام کی جتنی نشستیں بنتی ہیں انہیں دی جائیں ہزارہ قوم ہو ‘ پشتون یا دیگر اقوام ان کے آبادی کے تناسب سے حلقہ بندیاں کی گئیں تھیں حلقہ بندیوں کے آڑ میں کوئٹہ میں انتخابات کے موقع پر سازشیں کی جا رہی ہیں ایک بار پر 2013ء کی طرح ہمارے مینڈیٹ پر شب خون مارنے کی کوشش کی جا رہی ہے ہم نہیں چاہتے کہ آبادی سے زیادہ نشستیں دی جائیں پشتون کو ان کی آبادی ‘ بلوچوں کو ان کی آبادی ‘ پنجابی کو ان کی آبادی ‘ ہزارہ کو ان کی آبادی کے مناسبت سے نشستیں دی جائیں کسی کو یہ اختیار نہیں دیں گے کہ وہ آبادی کے تناسب میں بگاڑ پیدا کر کے ہمارے حقوق پر ڈاکہ ڈالے ہم معزز جج صاحبان سمیت عدالتوں کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں یہ ہمارا آئینی حق ہے کہ ہم اس حوالے سے عدالت عظمیٰ سے رجوع کریں اور اس حوالے سے اپیل کریں مقررین نے کہا کہ ہم کوئٹہ کو تعصب ‘ نسل پرستی کی سیاست سے پاک کرنا پڑے گا کہ تمام اقوام شیروشکر ہو کر رہ سکیں محکوم اقوام کو غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے ذریعے دست و گریبان کرنا نیک شگون نہیں اس حوالے سے ہمارا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے بنائے گئے حلقوں کو بحال کیا جائے ۔