بلوچستان عوامی پارٹی تنگ نظری کی سیاست کاقائل نہیں،اتحاد واتفاق سے ہی ترقی کی منازل طے کی جاسکتی ہیں ، جام کمال

بلوچستان متحدہ محاز پارٹی کو بی اے پی میں ضم کرنیکا اعلان کرتا ہوں، میرا جینا مرنابی اے پی کیساتھ ہے، میر سراج رئیسانی ہماری جماعت کے فیصلے بنی گالہ ،بلاول ہائوس یا مری میںنہیں بلکہ بلوچستان میں ہی ہونگے ، منظورخان کاکڑ

اتوار جون 21:00

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی صدر جام کمال نے کہاہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی تنگ نظری کی سیاست کاقائل نہیں ،یہ ایک خوبصورت گلدستہ ہے جس میں مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں ،اتحاد واتفاق سے ہی ترقی کی منازل طے کی جاسکتی ہیں ،،بلوچستان متحدہ محاذ کی بلوچستان عوامی پارٹی میں انضمام ،سردارنوراحمد بنگلزئی اور آغا شکیل درانی کی بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت سے بی اے پی مزیدمضبوط اور منظم ہوگی جو عوام کے مسائل کے حل میں بہتر کرداراداکرسکتے ہیں۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر بی اے پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل منظور خان کاکڑ ،سینیٹر نصیب اللہ بازئی، امان اللہ نوتیزئی ،پرنس احمد علی ،محمد خان لہڑی ودیگر بھی موجود تھے ۔

(جاری ہے)

بلوچستان متحدہ محاذ کے چیئرمین نواب زادہ میر سراج رئیسانی نے اپنی جماعت بلوچستان متحدہ محاذ کو بلوچستان عوامی پارٹی میں ضم کرنے کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان متحدہ محاز پارٹی کو بی اے پی میں ضم کرنیکا اعلان کرتا ہوں ،آج سے ایک کارکن کی حیثیت سے میرا جینا مرنابی اے پی کے ساتھ ہے ۔

انہوں نے کہاکہ اس سے قبل بلوچستان متحدہ محاذ کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں فعال کردار ادا کررہی تھی اور صوبے کی مسائل حل کرنے کیلئے ہر پلیٹ فارم پر آواز بلند کی ہے ،ساتھیوں نے صلاح و مشورے سے یہ فیصلہ کیا کہ بلوچستان کی ترقی اور ملک کی مضبوطی کیلئے ہم ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر کردار ادا کرینگے ۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان عوامی پارٹی عوام کی ترجمان پارٹی ہے ملکر بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے مشترکہ جدوجہد کرینگے ، میں ایک کارکن کی حیثیت سے پارٹی کو فعال بنانے کیلئے کردار ادا کرونگا اور آنیوالے وقت میں انشاء اللہ پارٹی کو کامیاب کرکے بلوچستان میں حکومت بنا کر عوام کے مسائل حل کرینگے ۔

اس موقع پر سابق وزیراعلیٰ بلوچستان کے برادر نسبتی اور ڈسٹرکٹ چیئرمین خضدار آغا شکیل درانی، جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنماء سردار نوراحمد بنگلزئی ، میر عنایت اللہ مینگل سمیت دیگر نے ساتھیوں سمیت بی اے پی میں باقاعدہ شمولیت کااعلان کیا۔انہوں نے اس امید کااظہار کیاکہ وہ بی اے پی کو بلوچستان اور ملکی سطح پر فعال کرنے میں اپنا کرداراداکرینگے ۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بی اے پی کے صدر میر جام کمال نے بلوچستان متحدہ محاذ کی بی اے پی میں ضم کرنے کو خوش آئند قراردیتے ہوئے کہاہے کہ نواب زادہ سراج رئیسانی کی جانب سے بلوچستان کے بہتر اور روشن مستقبل کیلئے بی ایم ایم کی بی اے پی میں انضمام سے بلوچستان کے عوام کو ایک مضبوط پلیٹ فارم ملے گا انہوں نے کہاکہ بلوچستان عوامی پارٹی ایک خوبصورت گلدستہ ہے جس میں مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان عوامی پارٹی کے پلیٹ فارم سے ہم بلوچستان کے حقوق کیلئے جدوجہد کرینگے ،،بلوچستان عوامی پارٹی بلوچستان کی پسماندگی ، ترقی وخوشحالی کے لئے اپنا کردار ادا کرے گی ، بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ جام کمال نے کہا کہ نواب زادہ سراج رئیسانی،سردار نور احمد بنگلزئی اور آغاشکیل درانی کو بلوچستان عوامی پارٹی میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہاہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی رنگ اور قوم پرستی سے بالا تر ہے بلوچستان عوامی پارٹی بلوچستان کے تمام اقوام کو اپنے ہمراہ لیکر آگے جا رہی ہیں ہم ایک پلیٹ فارم پر بلوچستان کے مسائل کو اجاگر کر کے حل کرینگے پارٹی کی قیادت پارٹی کے ممبران سے مشاورت کے بعد ہی فیصلے کرتی ہیں بلوچستان عوامی پارٹی میں لوگ خوشی سے جوق درجوق شمولیت اختیار کر رہے ہیںانہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی بلوچستان کے اقوام کی محرومیاں دور کریگی بلوچستان عوامی پارٹی میں کارکن کے طور پر کام کرینگے انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی بلوچستان کے تمام برادر اقوام کی محرومیاں دور کریگی ۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بی اے پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل منظورخان کاکڑ کاکہناتھاکہ وفاقی جماعتوں نے بلوچستان کی ترقی کیلئے کوئی کردارادانہیں کیاہے مگر ہمیشہ بلوچستان کے حقوق کے نام پر سیاست کی ہے ،وفاق کی جانب سے ایک بھی منصوبہ نہیں دیاگیاہے ،عوام نے صوبے کی تمام جماعتوں اور لوگوں کو آزمایا مگر ہماری جماعت کے فیصلے بنی گالہ ،بلاول ہائوس یا مری میںنہیں بلکہ بلوچستان میں ہی ہونگے ۔انہوں نے کہاکہ تمام سیاسی جماعتیں ہمارے قابل احترام ہے ہم کسی پر تنقید نہیں کرناچاہتے مگر گزشتہ سالوں کے دوران صوبے کے عوام کے ساتھ جو کچھ ہوا اس پر خاموش نہیں رہ سکتے ۔آغا شکیل درانی نے کہا ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی بلوچستان کے تمام برادر اقوام کی ترجمانی کریگی۔