نگران وزیراعلیٰ کے لئے ریٹائرڈ جسٹس ، جج ، بیورو کریٹس ، صحافیوں سمیت مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لو گوں کی بڑی تعداد موجود ہے، جمہوری وطن پارٹی

پیر جون 20:16

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) جمہوری وطن پارٹی کے سابق سیکرٹری جنرل بلوچ قوم پرست رہنماء میر عبدالرئوف ساسولی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں نگران وزیراعلیٰ کے لئے ریٹائرڈ جسٹس ، جج ، بیورو کریٹس ، صحافیوں سمیت مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لو گوں کی بڑی تعداد موجود ہے جنہیں نگران وزیراعلیٰ ، صوبائی کا بینہ میں شامل کر کے صوبے کی بہتری کے لئے کام کیا جا سکتا ہے یہ بات انہوں نے گزشتہ روز بلوچستان کے مختلف علاقوں سے آنیوالے وفود سے گفتگو کے دوران کہی میر عبدالرئوف ساسولی نے کہا ہے کہ جس طرح وفاق اور دیگر صوبوں نے ریٹائرڈ بیورو کریٹس، جج ، جسٹس اور صحافیوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لو گوں کے نام نگران وزیراعلیٰ اور کا بینہ کے لئے پیش کئے ہیں بلوچستان میں بھی پارلیمانی کمیٹی کو ایسے ہی نام پیش کئے جائے جس طرح ہمارے پاس جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود ، جسٹس ریٹارڈ امان اللہ یاسین زئی، علی احمد کرد ایڈووکیٹ، سابق چیف سیکرٹری احمد بخش لہڑی، سابق سیکرٹری منیر احمد با دینی ، صحافیوں میں سلیم شاہد، انور ساجدی، رشید بیگ سمیت دیگر اچھی شہرت اور کردار کے حامل شخصیا ت ہے بلوچستان کی سرزمین میں بھی مختلف شعبوں میں خدمات سرانجام دینے والے قابل با صلاحیت اور ایماندار شخصیات کی کمی نہیں ہمارے حکمرانوں جن میں حزب اقتدار اور اختلاف کے ارباب اختیار کو با کردار ، ایماندار اور اچھی شہرت کی حامل لو گوں کے نام نگران وزیراعلیٰ اور کا بینہ میں دینے چا ہئے جس طرح دوسرے صوبے دے رہے ہیں اور ان افسران یا نمائندوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے اپنے اپنے صوبوں میں اچھی حکومت بنا کر گڈ گورننس قائم کر کے صاف وشفاف انتخابات کے عمل کو یقینی بنانے کے لئے عملی اقدامات کر رہے ہیں جو قابل تحسین عمل ہے بلوچستان کی پسماندگی اور عوام میں پائے جانیوالے احساس محرومی کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمارے نمائندوں اور پارلیمانی کمیٹی کے عہدیداروں کو اس چیز کا تدارک کرنے کے لئے صوبے کے وسیع تر مفاد میں اقدامات اٹھانے چا ہئے تاکہ مسائل کو بہتر طور پر حل کیا جا سکے ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا ہے کہ بلوچستان کو ہمیشہ اچھے لو گوں کا بہانہ بنا کر ہر میدان میں پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن اب وہ وقت نہیں عوا م با شعور اور وہ ہر چیز پرنظر رکھتے ہیں اچھے برے میں تمیز کرنا جانتے ہیں عوام کی مرضی اورمنشا کے مطابق حقیقی با کردار ایماندار لو گوں کو نگران سیٹ اپ میں شامل کیا جائے۔

متعلقہ عنوان :