ایرانی پاسداران انقلاب کے دوسینئر عسکری مشیر جنوبی لیبیامیں لڑائی کے دورن ہلاک

ایرانی عسکری مشیروں کی ہلاکتوں کے پیچھے اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کا ہاتھ ہوسکتا ہے،ذرائع

منگل جون 15:39

ْطرابلس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) افریقی ملک لیبیا کے سابق مرد آہن کرنل معمر قذافی کے خلاف بغاوت اور ان کے قتل کے بعد ایران نے لیبیا میں اپنی مداخلت میں مزید اضافہ کردیا۔ لیبیا میں ایران کے قدم جمانے کے کئی محرکات ہیں جن میں تیل کی دولت سے مالا مال ملک میں سیاسی افراتفری سے فایدہ اٹھا کر خطے میں ایرانی نفوذ میں اضافہ کرنا ہے۔

عرب ٹی وی کے مطابق لیبیا کی سرزمین پر حال ہی میں دو ایرانی عسکری مشیر ہلاک ہوئے،ان ہلاکتوں نے لیبیا میں ایران کی عسکری مداخلت ایک بار پھر کھل کر سامنے آگئی ہے۔۔ایران ایک طرف مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے خلاف محاذ کو مزید گرم کرنے کے لیے شام میں اپنا اثرو نفوذ بڑھا رہا ہے اور دوسری طرف افریقی ملکوں میں بھی اپنے پنجے گاڑھ رہا ہے۔

(جاری ہے)

ایران کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل خطے میں ایکا ایسا ملک ہے جس کی سرحدوں کا تعین نہیں اور وہ اپنی سرحدوں کو مسلسل وسعت دے رہا ہے۔

یوں تہران اسرائیل کی علاقے میں توسیع پسندی کی آڑ میں اپنی توسیع پسندی کو آگے بڑھا رہا ہے۔دوسری طرف بعض ذرائع ابلاغ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان افریقی ملکوں میں محاذ آرائی کی خبریں بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔ دونوں ملکوں کے سفارت کاروں، سیکیورٹی عہدیداروں، سیاسی رہ نماؤں اور تاجروں کی لیبیا، تیونس اور مالٹا جیسے ملکوں میں خفیہ چپقلش کی خبریں بھی آچکی ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے دو سینیر عسکری مشیر جنوبی لیبیامیں لڑائی کے دورن ہلاک ہوگئے۔ایک ذمہ دار سیکیورٹی ذریعے نے بتایاکہ اسرائیلیوں نے ایرانی پاسداران انقلاب کے عناصر کی لیبیا میں آمد پر نظر مرکوز کر رکھی تھی۔ ایران کے لیے تیونس اور دوسرے افریقی ملکوں تک رسائی کے لیے لیبیا ایک سنہری گذرگاہ کا درجہ رکھتا ہے۔ دونوں ایرانی عہدیداروں کو نامعلوم مسلح افراد نے ایک چھوٹے سے قصبے میں ہلاک کیا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ ایرانی عسکری مشیروں کی ہلاکتوں کے پیچھے اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔