کسانوں کیلئے جاری فلاحی اقدامات کے بارے میں منفی پراپیگنڈہ کی اشاعت حقائق کے منافی ہے،ترجمان زراعت

منگل جون 15:42

لاہور۔5 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ محکمہ کاشتکاروں کی فلاح کیلئے اقدامات کر رہا ہے اور اسی کے باعث صوبہ میں زرعی ترقی کا عمل جاری ہے۔2017-18 میں محکمہ زراعت کے اقدامات کے باعث پچھلی13 سال کی نسبت سب سے زیادہ گروتھ ریٹ3.81 فیصد اور فصلات کے شعبے میں پچھلے 9 سال میں سب سے زیادہ بہتری 2.09 فیصد ریکارڈ کی گئی جو صوبہ میں زرعی ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ پچھلے دنوں بعض اخبارات میں محکمہ زراعت پنجاب کے کسانوں کیلئے جاری فلاحی اقدامات کے بارے میں منفی پراپیگنڈہ کی اشاعت ہوئی جو بالکل بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے۔ محکمہ نے PPRA کے قواعد پر عمل درآمد کرتے ہوئے ٹیلی نار پاکستان کو" کنیکٹڈ ایگریکلچر پلیٹ فارم پنجاب""(CAPP) پروگرام کیلئے کنٹریکٹ ایوارڈ کیا ۔

(جاری ہے)

اس کنٹریکٹ کے تحت ٹیلی نار پاکستان نہ صرف موبائل فون بلکہ زراعت کے متعلقہ ایپلکشنز اور 1GB فری 3G/4G انٹرنیٹ مہیا کررہا ہے اور ان کو استعمال کرنے کیلئے 30 منٹ فی کسان تربیت بھی فراہم کررہا ہے۔

اس مقصد کیلئے ٹیلی نار پاکستان نے پنجاب کے تمام اضلاع میں سہولت سینٹرز قائم کئے ہیں اور ان تمام کاموں کیلئے حکومت پنجاب کسانوں کی جگہ ٹیلی نار کمپنی کو اس کے عوض99 روپی+ ٹیکس ادا کر رہا ہے جبکہ مارکیٹ میں صرف1GB انٹرنیٹ کے استعمال کی قیمت100 روپے سے زائد ہے۔اس پروگرام کے تحت پہلے مرحلے میں کسان پیکج کے تحت1 لاکھ10 ہزار رجسٹرڈ کاشتکاروں کو سمارٹ فون اور 3G/4G سم کارڈفراہم کیے جا رہے ہیں ۔

اب تک محکمہ زراعت 48 ہزار کاشتکاروں کو سمارٹ فون فراہم کر چکا ہے۔ ان تمام سمارٹ فونز کی خریداری پر 99 کروڑ90 لاکھ روپے کی مالیت آئی ہے۔ مارکیٹ میں ایسی کوالٹی کا سیٹ 13 ہزار روپے سے زائد مالیت کا دستیاب ہے جبکہ حکومت پنجاب نے فی سیٹ9 ہزار روپے میں خرید کیا ہے ۔ بے زمین اورمزراعین کیلئے یہ سمارٹ فون 500/- روپے جبکہ اراضی مالکان کیلئے صرف1000/- روپے میں دستیاب ہے ۔

اس سمارٹ فون کی خریداری اور دیگر سروسز کیلئے محکمہ زراعت پنجاب اورپنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB)کے افسران پر مشتمل ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دی گئی جنہوں نے مکمل کوالٹی کو پرکھتے ہوئے اس کی خرید کاکام مکمل کیا۔یہ سمارٹ فونز ای کریڈٹ سکیم کے تحت بلا سود قرضہ لینے اور قرضہ لے کرواپس کرنے والے کسانوں کو دئیے جارہے ہیں اور ان کے ذریعے زرعی توسیعی خدمات فراہم کی جارہی ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ موبائل فونز کی تقسیم کا یہ عمل شفاف طریقے سے ابھی جاری ہے اور اس میں تمام کام محکمانہ قواعد و ضوابط کو مد نظر رکھتے ہوئے سرانجام دئیے جا رہے ہیں۔اس سکیم کے دوسرے مرحلے میں کسان پیکج کے تحت تمام رجسٹرڈ کاشتکاروں کو سمارٹ فونز مہیا کیے جائیں گے۔ترجمان نے یہ بھی کہا کہ سپر کبڈی لیگ میں محکمہ زراعت پنجاب کا کردار اس حد تک رہا ہے کہ کسانوں کا پسندیدہ کھیل ہونے کے باعث محکمہ زراعت پنجاب نے اس کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیا تھا۔

بنیادی طور پر سپر کبڈی لیگ کا انعقاد پرائیویٹ سیکٹر نے کیا تھا۔ کھاد اور پیسٹی سائیڈ کی ادویات کی مہنگائی کی اصل وجہ چین کے صوبہ شینڈونگ میں کھادوں و زرعی ادویات بنانے والی50 بڑی کمپنیاں اکتوبر2017 سے مارچ2018 کے دوران بند ہو گئیں اور اس بابت ایڈیشنل سیکرٹری(ٹاسک فورس) محکمہ زراعت پنجاب نے وفاقی حکومت کو چٹھی نمبرAS(TF)1-39/2018 کے تحت 11 جنوری اور16 فروری 2018کو اس مسئلے کی بابت توجہ مبذول کی تھی کہ زرعی ادویات کی قیمتوں میں بین الاقوامی طور پر بننے والے منظر نامہ کے باعث اضافہ متوقع ہے کیونکہ زیادہ تر زرعی ادویات کا خام مال چین سے درآمد کیا جاتا ہے اور قیمتیں پچھلے سال کی نسبت زیادہ ہو سکتی ہیں اسی طرح حکومت نے کسانوں کو کھادوں پر اربوں روپے کی سبسڈی دی تاکہ کاشتکاروں کی پیداواری لاگت میں کمی آئے جس کی وجہ سے 2017-18 میں کھادوں کے استعمال میں39 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

کھادوں کی ڈیمانڈ زیادہ جبکہ سپلائی کم ہے۔اس تناظر میںکھادوں کی قیمت میںمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ترجمان نے مزید کہا کہ کھاد اور زرعی ادویات کی قیمت میں اضافہ کاکبڈی لیگ کے انعقاد سے ہر گز کوئی تعلق نہیں ہے۔