ریٹائرڈ سکول ٹیچرکے دو بیٹوں کی گرفتاری کے خلاف کندھ کوٹ پریس کلب سے گھنٹہ گھر چوک تک احتجاجی ریلی

منگل جون 17:48

کندھ کوٹ ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) ریٹائرڈ سکول ٹیچر استاد خادم حسین کے دو بیٹوں کی گرفتاری کے خلاف کندھ کوٹ پریس کلب سے گھنٹہ گھر چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ استاد خادم حسین کے بیٹوں کے خلاف منشیات فروشی کے غلط مقدمات درج کئے گئے ہیں انہیں ختم کیا جائے اور دونوں بھائیوں کو چھوڑا جائے۔منگل کے روزنکالی جانے والی احتجاجی ریلی میں ضلع کونسل کندھ کوٹ کے وائس چیئرمین نوید گولو سول سوسائٹی کے افراد نے شرکت کی۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔اور دونوں بھائیوں کی رہائی کا مطابلہ کر رہے تھے۔مظاہرین نے آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا کہ غیر جانبدار انکوائری کر کے جھوٹا مقدمہ درج کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے ۔

(جاری ہے)

اس سلسلے میں کندھ کوٹ کے تھانہ اے سیکشن کے ایس ایچ او انور علی بروہی سے ’’اے پی پی‘‘ نے رابطہ کیا تو انور علی بروہی نے بتایا کہ استاد خادم حسین کے بیٹے کندھ کوٹ کشمور اور شکارپور میں منشیات سپلائی کرتے ہیں اور ان کے خلاف کئی تھانوں میں مقدمات درج ہیں جس کی بنیاد پر ہم نے ان دونوں بھائیوں اور ان کے ایک چچا زاد بھائی مختار گولو کو گرفتار کیا ہے ۔

ایس ایچ او نے بتایا کہ یہ دونوں بھائی آکڑا پرچی کا دھندا بھی کرتے ہیں جبکہ ہم نے اکڑا پرچی کا دھندا بند کرنے کے لئے غلام رسول میرانی، بشیر احمد میرانی اور لیاقت میرانی کے اکڑا پرچی کے اڈے بند کرائے ہیں۔ایس ایچ او نے کہا کہ استاد خادم حسین اپنے بچوں کے تحفظ کے لئے مظاہرے کر رہے ہیں ۔ایس ایچ او نے کہا ہم نے کندھ کوٹ میں منشیات کے خلاف مہم چلائی ہوئی ہے اور کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اس میں مداخلت کرے۔