کینو کی برآمد کا نیا ریکارڈ، 2017-18ء کے سیزن میں 3 لاکھ 70 ہزار ٹن کینو ایکسپورٹ کیا گیا، وحید احمد

منگل جون 17:51

ْ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) نامساعد حالات اور چیلنجز کے باوجود پاکستان سے 3لاکھ70ہزار ٹن کینو برآمد کیا گیا جو اب تک کسی بھی سیزن میں کینو کی ایکسپورٹ کا بلند ترین حجم ہے۔آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ اور ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر وحید احمد کے مطابق دسمبر 2017سے شروع ہونے والی کینو کی برآمدات مئی کے اوائل تک جاری رہی۔

حالیہ سیزن میں کینو کی ایکسپورٹ 3لاکھ70ہزار ٹن رہی جبکہ گزشتہ سیزن میں 3لاکھ 25ہزار ٹن کینو برآمد کیا گیا تھا۔ حالیہ سیزن میں 3لاکھ 70ہزار ٹن کینو کی ایکسپورٹ سے ملک کو 22کروڑ 20لاکھ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا ہے۔وحید احمد کے مطابق کینو کے برآمدی ہدف کو حاصل کرنے اور ریکارڈ برآمدات ممکن بنانے میں ایف پی سی سی آئی نے کلیدی کردار ادا کیا۔

(جاری ہے)

ایف پی سی سی آئی کی سپورٹ سے پی ایف وی اے نے روسی مارکیٹ میں پاکستانی کینو پر بلند ویلیو کے اطلاق کا معاملہ روس اور پاکستانی حکام کے سامنے موثر انداز میںپیش کیا جس پر روس نے ویلیو ایشن میں کمی پر آمادگی ظاہر کردی دوسری جانب ایف پی سی سی آئی کے پلیٹ فارم سے انڈونیشیا کی مارکیٹ میں پاکستان پرکوٹہ کے اطلاق کے لیے کی جانے والی موثر کوششوں کے نتیجے میں انڈونیشیا نے بھی کوٹہ کا خاتمہ کردیا ہے۔

ایف پی سی سی آئی نے روسی مارکیٹ میں پاکستانی ایکسپورٹرز کی مسابقت آسان بنانے کے لیے پی ایف وی اے کے موقف کی بھرپور حمایت کی جس کے نتیجے میں وزارت تجارت نے روس کو کینوکی ایکسپورٹ پر فی کنٹینر 200ڈالر فریٹ سبسڈی کی سہولت فراہم کردی ہے ۔ اس سہولت نے کینوکی ایکسپورٹ بڑھانے میں اہم کردار اداکیا ہے۔ادھر ایف پی سی سی آئی اور پی ایف وی اے نے پاکستان کے مختلف زرعی تحقیقی اداروں کے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے کینو کے معیار کی بہتری اور نئی ورائٹی تلاش کرنے کے لیے تحقیقی سرگرمیوں کی بنیاد بھی رکھ دی ہے ایف پی سی سی آئی کا ریسرچ ونگ ملک میں ترش پھلوں کی پیداوار بڑھانے، معیار کی بہتری اور ورائٹیز میں اضافہ کے لیے جامع تحقیقی منصوبہ پر بھی کام کررہا ہے جس میں عالمی اور پاکستانی زرعی تحقیقی اداروں اور جامعات کا تعاون حاصل ہے۔

وفاقی وزارت تجارت ، ایف پی سی سی آئی اور پی ایف وی اے کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں انڈونیشیا کی مارکیٹ میں پاکستانی کینو کے لیے کوٹہ کی پابندی کے خاتمہ نے کینو کی ایکسپورٹ بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا، انڈونیشیاکی جانب سے پاکستانی کینو کے امپورٹ پرمٹ جنوری کے وسط میں جاری کیے جاتے تھے اور محدود مقدار میں کوٹہ مقرر کیے جانے کی وجہ سے بڑے آرڈرز کی ترسیل میں دشواری ہوتی تھی۔

پاکستان میں کینو کی بھرپور فصل اور کینو پیدا کرنے والے بڑے ملک مراکش میں کینو کی پیداوار میں کمی سے پاکستان کے لیے روسی مارکیٹ میں کینوکی ایکسپورٹ بڑھانے کا موقع ملا لیکن ایرانی مارکیٹ مسلسل ساتویں سال پاکستان کے لیے بند رہی ،،ایران 60سے 80ہزار ٹن تک کی مارکیٹ ہے تاہم ایرانی حکام کی جانب سے جشن نوروز کے لیے محدود وقت کے امپورٹ پرمٹ جاری کیے گئے تاہم وقت کم ہونے اور لاجسٹک و لین دین کے مسائل کی وجہ سے پاکستانی ایکسپورٹرز اس عارضی موقع سے بھی فائدہ نہیں اٹھاسکے۔

وحید احمد کے مطابق پاکستان کی کینو کی صنعت کو اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ انٹرنیشنل مارکیٹ میں ترکی اور مراکش کے ساتھ معیار اور قیمت کا مقابلہ ناممکن ہوتا جارہا ہے۔ آئندہ سیزن میں ترکی اور مراکش کی بھرپور فصل ہونے کی صورت میں پاکستان کے لیے برآمدی ہدف پورا کرنا مشکل ہوگا۔ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے فقدان کی وجہ سے کینو کی پیداوار متاثر ہورہی ہے اور پاکستانی کینو کی شیلف لائف کم ہورہی ہے ۔

پاکستان میں کینو کے باغات اپنی عمر پوری کرچکے ہیں اور عمررسیدہ درخت بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھوچکے ہیں جس کی وجہ سے کینو کے باغات بیماریوں کی لپیٹ میں آرہے ہیں۔ کینو کے نئے باغات نہیں لگائے جارہے جس سے مستقبل قریب میں کینو کی صنعت اور برآمدات کو بڑے نقصان کا اندیشہ بڑھ رہا ہے۔ پنجاب کینو کی پیداوار کا مرکز ہے اس لیے پنجاب حکومت کو فوری طو ر پر کینو کے معیار کی بہتری اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ پر توجہ دینا ہوگی، کینو کو بیماریوں سے محفوظ بناتے ہوئے ترش پھلوں کی نئی اقسام پیدا کرتے ہوئے ویلیو ایڈیشن کے ذریعے پاکستانی کینو کی صنعت کو ایک ارب ڈالر کی صنعتوں میں شامل کیا جاسکتاہے۔

وحید احمد نے کہا کہ پاکستانی کینو کو روسی حکام کی جانب سے بدستور بلند ویلیو ایشن کے مسئلے کا سامنا ہے جس کی وجہ سے روس کی اہم مارکیٹ میں لاگت بڑھ گئی ہے ۔ پاکستانی کینو کی اصل ویلیو 6سے 7ڈالر فی 10کلو گرام تک ہوتی ہے جبکہ روسی حکام اس کی ویلیو 9ڈالر لگاتے ہیں جبکہ فروری کے بعد ویلیوایشن 10.5ڈالر فی دس کلو گرام تک پہنچ جاتی ہے۔ پی ایف وی اے نے اس اہم مسئلے کے حل کے لئے پاکستان اور روسی حکام کے سامنے بھرپور آواز اٹھائی، روس میں تعینات پاکستانی سفارتکاروں اور پاکستانی وزارت تجارت نے بھی معانت انجام دی جس کے نتیجے میں روسی حکام نے ویلیو ایشن میں کمی پر آمادگی ظاہر کردی ہے تاہم پاکستانی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ویلیوایشن کی توثیق نہ کیے جانے کی وجہ سے یہ مسئلہ تاحال برقرار ہے۔

وحید احمد کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے چین جیسی وسیع منڈی تک رسائی آسان ہوچکی ہے جس سے پھل اور سبزیوں کی چین کو ایکسپورٹ کے بھرپور مواقع کھلے ہیں تاہم پاکستانی کینو کا معیار چینی مارکیٹ کے لیے موزوں نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھاپارہا تاہم مربوط کوششوں کے ذریعے معیار کو بہتر بناتے ہوئے آئندہ تین سال میں چین کو 50ہزار سے 80ہزار ٹن تک کینو ایکسپورٹ کیا جاسکتا ہے۔

وحید احمد نے کینو کے برآمدی ہدف کو حاصل کرنے میں وفاقی وزارت تجارت، قرنطینہ ڈپارٹمنٹ، کسٹم حکام، شپنگ کمپنیوں اور پاکستان ہارٹی کلچر ڈیولپمنٹ کمپنی اور ایف پی سی سی آئی کی معاونت کا شکریہ ادا کیا جن کے تعاون کی وجہ سے پاکستان سے کینو کی ریکارڈ ایکسپورٹ ممکن ہوسکی۔ بالخصوص ایف پی سی سی آئی اور پاکستان ہارٹی کلچر ڈیولپمنٹ کمپنی نے کینو کی ایکسپورٹ پر سرکاری معاونت کے حصول میں اہم کردار ادا کیا ۔