اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 10گھنٹے تک جا پہنچا

نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ،یو پی ایس اور جنریٹرز کی فروخت اور شہریوں کے غم و غصہ میں اضافہ

منگل جون 18:10

راولپنڈی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 10گھنٹے تک جا پہنچا ،نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ،یو پی ایس اور جنریٹرز کی فروخت اور شہریوں کے غم و غصہ میں اضافہ ہو گیا ۔راولپنڈی شہر کینٹ اور مضافاتی علاقوں ٹاہلی موہری ،کمال آباد،خیابان میراں بخش ،اسلم مارکیٹ ،فیصل کالونی ،ٹنچ بھاٹہ ،صادق آباد ،آریہ محلہ ،شکریال ،چکلالہ ،رحمت آباد ،ڈھوک سیداں ،صدر ،بابو محلہ ،چکری روڈ ،لالہ رخ کالونی ،بہار کالونی ،اشرف کالونی ،،بنک کالونی ،مدینہ ٹائون ،گرجا ،،قائد اعظم کالونی کے مکینوں نے اے پی پی کو بتایاکہ زیرو لوڈشیڈنگ کے دعوے ہوا ہو گئے ہیں اور عملی صورتحال یہ ہے کہ اکثر علاقوں میں ہر گھنٹے بعد بجلی کی بندش کا سلسلہ جاری ہے ۔

(جاری ہے)

اس ضمن میں آئیسکو ترجمان نے میڈیا کو بتایاکہ راولپنڈی اور ملحقہ علاقوں میں بجلی کی بندش کی وجہ روات میں واقع گرڈ اسٹیشن میں پیدا ہونے والی خرابی ہے جوکہ ممکنہ طور پر عید کے بعد درست ہو سکے گی ۔شہریوں نے قومی خبر ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ سسٹم میں اضافی بجلی کی موجودگی کے دعوئوں کے برعکس بجلی کی ہر پل آنکھ مچولی اور 10گھنٹے تک جا پہنچنے والی لوڈ شیڈنگ سے صورتحال الگ ہی نظر آتی ہے ۔

شہریوں نے بتایاکہ معمول کی لوڈ شیڈنگ کے ساتھ ساتھ وقت بے وقت بجلی کا جانا معمول بن چکا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ہم پتھر کے دور میں واپس آگئے ہیں ۔ایسے میں نئی کابینہ کو بہت سے چیلنجز درپیش ہوں گے ۔شہریوں نے سرکاری خبر رساں ادارے کو بتایاکہ بجلی کی آنکھ مچولی کی وجہ سے پانی کی قلت کا مسئلہ بھی شدت اختیار کر گیا ہے ۔دوسری جانب تجارتی مراکز میں بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جنریٹرز اور یو پی ایس کا استعمال بھی بڑھ گیا ہے ۔

بجلی بندش سے متاثرہ ٹیلرز نے حکومت پر نکتہ چینی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ خدارا عوام کو بجلی جیسی بنیادی ضرورت دی جائے ۔ٹیلرز نے اے پی پی کو بتایاکہ بجلی کی غیر معمولی بندش کی وجہ سے ان کے کام میں شدید تعطل آگیا ہے جس کی وجہ سے وہ آرڈرز کی بروقت ترسیل کے قابل نہ ہو سکیں گے ۔شہریوں نے بتایاکہ بجلی کی بندش کے باعث مجموعی طور پر کاروبار زندگی مفلوج ہو کر رہ گیاہے ۔