84میں بھارتی فوج کے سکھوںکی عبادت گاہ پر حملے ،سینکڑوں افرادکی ہلاکت کی یاد میں بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ،

شدید نعرے بازی اور خالصتان زندہ باد اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے

بدھ جون 17:46

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) 1984میں بلو سٹارآپریشن کے ذریعے خالصتان تحریک کو ختم کرنے کی غرض سے بھارتی آرمی کی جانب سے سکھ مذہب کی مرکزی عبادت گاہ گولڈن ٹیمپل پر حملے اور سینکڑوں مرد و خواتین کی ہلاکت کی یاد میں پاکستان میں بسنے والی سکھ برادری کے سینکڑوں افراد کا گورودوارہ ڈیرہ صاحب میں بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ،،بھارتی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی ،خالصتان زندہ باد اور پاکستان زندہ باد کے نعرے ،احتجاجی مظاہرہ کی قیادت سردار اوتار سنگھ سنگھیڑہ لندن ،سابق پردھان سردار بشن سنگھ ،سردار مہندر سنگھ ،سردار ترن سنگھ ،سردار کلدیپ سنگھ ،سردار سربت سنگھ ،صوبہ سنگھ ،بلونت سنگھ سمیت دیگر سکھ افراد جن میں مرد و خواتین بوڑھے بچے شامل تھے کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔

(جاری ہے)

اس موقع پر مظاہرین سے خطاب اور میڈیا کے نمائندوے سے گفتگو کرتے ہوئے سردار اوتار سنگھ سنگھیڑا نے کہا کہ دنیا بھر کے سکھ بھارت کی اس ظلم و بربریت کو کبھی نہیں بھول پائیں گے اور ہمارے آنے والی نسلیں بھی گولڈن ٹیمپل پر حملے اور سیکڑوں بے گناہ ہلاکتوں پر سراپہ احتجاج رہے اور خالصتان تحریک کامیابی سے ہمکنار ہو گی ہم بھارت کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیں گے بھارتی حکومت کا نہتے افراد پر ظلم کو دنیا کی تاریخ کبھی بھلا نہیں پائے گی ۔

سابق پردھان سردار بشن سنگھ نے کہا کہ بھارتی آرمی نے اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے حکم پر جس طرح ہماری عبادت گاہ کی بے حرمتی کی اور ہمارے سینکڑوں افرا د کا نا حق خون بہایا اور انہیں زندہ جلایا اس پر ہم سراپہ احتجاج ہیں اور یہ احتجاج کبھی ختم نہیں ہو گا ۔ہم آج یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ بھارت مردہ باد جبکہ پاکستان زندہ و پائندہ باد رہے۔

اور خالصتان کی تحریک کبھی رک نہ پائے ۔سردار مہندر سنگھ ترن سنگھ سروت سنگھ و دیگر نے بھی بھارتی حکومت کے اس ظالمانہ اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ظلم و ستم ہماری تحریک اور آواز حق کو کبی ختم نہ کر پائیں گے ۔مظاہرین نے مختلف پے کارڈز جس پر بھارت مخالف نعرے جبکہ گولڈن ٹیمپل کے حملے میں مارے گئے افراد کی تصاوررر اٹھار رکھی تھی اور بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں ۔