این اے 127سے مریم نواز ، پرویز ملک سمیت کوئی بھی مد مقابل ہو 90ہزار ووٹوں سے شکست دینگے ‘ جمشید چیمہ

شہباز شریف کی جانب سے شمالی لاہور میں کروڑوں کے فنڈز دینا پری پول دھاندلی ہے ،ہائیکورٹ سے رجوع کرینگے سابق حکمرانوںکو انتخابی مہم میں آٹے دال کا بھائو معلوم ہو جائیگا‘مسرت چیمہ /کاغذات نامزدگی داخل کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو

جمعہ جون 17:20

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) تحریک انصاف پنجاب کے سینئر نائب صدر و این اے 127سے امیدوار جمشید اقبال چیمہ نے کہا ہے کہ عام انتخابات میں اس حلقے سے مریم نواز یا پرویز ملک سمیت کوئی بھی مد مقابل ہو اسے 90ہزار ووٹوں کے مارجن سے شکست دینگے ، شہباز شریف کی جانب سے لارڈ میئر کے ذریعے شمالی لاہور میں کروڑوں روپے کے فنڈز دینا پری پول دھاندلی ہے جس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کارکنوں کی بڑی تعداد کے ہمراہ حلقہ این اے 127سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ جمشید اقبال چیمہ نے کہا کہ (ن) لیگ والے پہلی بار کسی بیساکھی کے بغیر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں اس لئے انہیں دن میں تارے نظر آگئے ہیں اور اپنی واضح شکست کو دیکھتے ہوئے دھاندلی کا شور شوع کر دیا گیا ہے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ عوام اب با شعور ہو چکے ہیں اور وہ مستند چوروں کو ووٹ نہیں دیں گے اسی لئے دعویٰ ہے کہ این اے 127سے پانامہ لیگ کا جو بھی امیدوار مد مقابل ہوا اسے 90ہزار ووٹوں کے مارجن سے شکست دیں گے۔ انہوںنے کہا کہ شہباز شریف کی جانب سے لارڈ میئر کے ذریعے شمالی لاہور میں ترقیاتی کاموں کے نام پر ووٹ خریدنے کیلئے کروڑوں روپے دئیے گئے ہیں جس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کریں گے۔

اس موقع پر مسرت جمشید چیمہ نے این اے 127سے بطور کورننگ امیدوار اور قومی اسمبلی کی مخصوص نشست پر بھی کاغذات نامزدگی داخل کرائے ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ مسلم لیگ (ن) صوبائی دارالحکومت لاہور کو پیرس بنانے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن انتخابی مہم میں انہیں آٹے دال کا بھائو معلوم ہو جائے گا۔ لاہور جیسے شہر میں عوام سیوریج ملا پانی پینے پر مجبور ہیں جبکہ حکمرانوں کو گزشتہ پانچ سالوں میں اپنی ذاتی اناء کی تسکین کے منصوبے بنانے سے فرصت نہیں تھی ۔

انہوں نے کہا کہ عوام سوال کرتے ہیں شہباز شریف نے جو 680ارب روپے کی بچت کی ہے وہ کہاں ہیں ،کیا اس سے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی ، تعلیم او رصحت کی سہولیات میسر آئی ہیں ۔یہ اربوںں روپے حکمرانوں اور ان کی آنکھ کا تارا سمجھے جانے والے افسران کی جیبوں میں چلے گئے ہیںاورقوم ان سے پائی پائی کا حساب لے گی۔