پی ٹی آئی کی جانب سے انتخابی اُمیدواروں کی فہرست جاری

پی ٹی آئی نے ٹکٹس کے اجرا سے قبل متعلقہ حلقوں میں اُمیدواروں کی مقبولیت کے سروے کروائے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ جون 13:08

پی ٹی آئی کی جانب سے انتخابی اُمیدواروں کی فہرست جاری
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 09 جون 2018ء) : پی ٹی آئی نے گذشتہ روز اپنے انتخابی اُمیدواروں کی فہرست جاری کی جس پر کئی اعتراضات اُٹھائے گئے لیکن قومی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی نے انتخابی اُمیدواروں کو ٹکٹس جاری کرنے سے قبل ان کے متعلقہ حلقوں میں مقبولیت کے حوالے سے سروے کروائے۔ قومی اخبار میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا کہ جن حلقوں میں پارٹی کو ٹکٹ جاری کرنے کے عمل میں مشکل پیش آرہی تھی اور کوئی فیصلہ نہیں ہوپارہا تھا ، وہاں اُمیدواروں کی مقبولیت کے حوالے سے سروے کرائے گئے ہیں اور یہ عمل کئی حلقوں میں جاری ہے ۔

پارٹی کی جانب سے اب تک اعلان کئے گئے 60 فیصد ٹکٹوں میں سے 10 فیصد سے زائد پاپولیرٹی سروے کے ذریعے دیئے گئے ہیں۔ پاپولیرٹی سروے تحریک انصاف کے الیکشن سیل کے ذریعے کروائے جا رہے ہیں جن میں سروے کرلئے اس شعبے سے متعلق پروفیشنلز کو باقاعدہ تنخواہ پر رکھا گیا ہے اور ان کا پارٹی کی کسی لیول کی قیادت سے کوئی رابطہ نہیں ۔

(جاری ہے)

ان کی سروے رپورٹس براہ راست پارٹی چیئرمین عمران خان کو دی جاتی ہیں۔

ٹکٹوں میں تاخیر کی وجہ بھی کئی حلقوں میں پاپولیرٹی سروے ہیں ۔ پاپولیرٹی سروے ان حلقوں میں کروائے جا رہے ہیں جہاں ایک سے زائد مضبوط اُمیدوار موجود ہیں اور ان میں سے کوئی بھی دوسرے کے حق میں دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہے ، ایسے اُمیداروں نے پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کا فیصلہ بھی ماننے سے انکار کیا اور پارٹی کی مصالحتی کمیٹیوں کی مصالحت کو بھی نہ تسلیم نہیں کیا۔

ایسے حلقوں میں پاپولیرٹی سروے ذریعے پارٹی چیئرمین کو اطلاع دی جاتی ہے کہ کون سا اُمیدوار متعلقہ حلقے میں زیادہ مقبول ہے ،جس کے بعد زیادہ مقبول اُمیدوار کو ٹکٹ دے دیا جاتا ہے ،یہ سروے ان حلقوں میں بھی کروائے جا رہے ہیں جہاں پارٹی کے پاس متوسط اُمیدوار ہیں ، ایسے حلقوں میں سروے کے ذریعے یہ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ ان میں سے موزوں ترین اُمیدوار کون ہے ۔

لیکن کئی حلقے ایسے بھی ہیں جہاں پاپولیرٹی سروے کو نظر انداز کر کے پارٹی قیادت کے مضبوط دھڑوں کے ایما پر ٹکٹ جاری کئے گئے ہیں۔۔تحریک انصاف کے صوبائی اور مقامی رہنماؤں نے بتایا کہ پنجاب کے کئی حلقوں میں موزوں اُمیدواروں کو نظر انداز کر کے ریجنل قیادت کی ذاتی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر اب تک اعلان شدہ 60 فیصد ٹکٹوں میں سے کئی ٹکٹس دیئے گئے ہیں جس سے پارٹی کو الیکشن میں نقصان اُٹھانا پڑسکتا ہے۔

وسطی پنجاب میں ایسے کیسز زیادہ ہیں جہاں گروپنگ کی بنیاد پر کئی کمزور اُمیدواروں کو ٹکٹ جاری کئے گئے ہیں۔ وسطی پنجاب کے ایک سینئر رہنما نے دعویٰ کیا کہ جو ٹکٹ ان کے کہنے پر دیئے گئے وہاں ایسے اُمیدواروں کی ضرورت تھی جو نواز لیگ کے بدمعاشوں کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔