مریم نواز نے حلقہ این اے 125 اور این اے 127 سے الیکشن لڑنے کی اطلاعات

ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ مریم نواز نے ٹویٹر پیغام میں واضح کر دیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ جون 15:31

مریم نواز نے حلقہ این اے 125 اور این اے 127 سے الیکشن لڑنے کی اطلاعات
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 09 جون 2018ء) : مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کے حلقہ این اے 125 اور این اے 127 سے الیکشن لڑنے کی اطلاعات سامنے آ رہی تھیں۔ اس ضمن میں مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں ایک صارف نے لکھا کہ مریم نواز این اے 125 اور این اے 127 سے الیکشن لڑیں گی۔
جس پر مریم نواز نے ٹویٹر پیغام کہا کہ اس حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ۔

میں نے دونوں حلقوں کے ٹکٹ کے لیے اپلائی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت اور لیڈر شپ ہی اس بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے۔
خیال رہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق مریم نواز نے این اے 125 کی بجائے این اے 127 سے الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مریم نواز کا این اے 125 کی بجائے این اے 127 سے الیکشن لڑنے کا امکان ہے، لیکن مسلم لیگ ن کے ایک خفیہ سروے کے مطابق خفیہ سروے کے مطابق مریم نواز حلقہ این اے 125 سے الیکشن ہار سکتی ہیں۔

(جاری ہے)

خفیہ سروے کے بعد مریم نواز کے لیے حلقہ این اے 127 سے بھی کاغذات نامزدگی حاصل کر لیے گئے ہیں۔ مریم نواز کے حلقہ انتخاب کے تعین کا حتمی فیصلہ پارٹی قائد نواز شریف ہی کریں گے۔۔ن لیگ کے حلقہ این اے 125میں کروائے گئے سروے کے مطابق اس حلقہ میں کشمیری براداری اور آرائیں برادری موجود ہے جو چاہتے ہیں کہ یہاں سے کوئی آرائیں نمائندہ ہی آگے آئے۔

اس تمام صورتحال میں ن لیگ کی قیادت سر جوڑ کر بیٹھ گئی ہے۔اور اب توقع کی جا رہی ہے کہ مریم نواز حلقہ این اے 125 کے بجائے حلقہ این اے 127 سے الیکشن لڑیں گی کیونکہ وہاں سے مریم نواز کے جیتنے کے زیادہ امکانات ہیں۔یاد رہے کہ حلقہ این اے 125 پہلے حلقہ این اے 120تھا جہاں سے مریم نواز کی والدہ کلثوم نواز نے الیکشن لڑا تھا اور وہ جیت بھی گئی تھیں۔

بیگم کلثوم نواز کے علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہونے کی وجہ سے مریم نواز نے تن تنہا اپنی والدہ کی انتخابی مہم چلائی اور حلقے کے کئی دورے بھی کیے جس میں انہوں نے مقامی لوگوں سے بات چیت اور ملاقات کر کے ان کے مسائل سنے اور ان کو جلد ازجلد مسائل کے حل کی یقین دہانی بھی کروائی۔یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو اقامہ ظاہر نہ کرنے پر نا اہل قرار دیا گیا تھا۔

جس کے بعد نواز شریف کو وزارت عظمٰی اور پارٹی صدارت سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔ نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کو اس وقت بھی نیب مقدمات کا سامنا بھی ہے۔ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز اس حوالے سے احتساب عدالت میں 70 سے زائد پییشیاں بھگت چکے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شریف خاندان کے خلاف مقدمات کا فیصلہ جلد آنے کا امکان ہے ، اور ان مقدمات میں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کو سزا ہونے کا بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔