مسلسل 5ماہ بھر پور انسداد پولیو مہم چلانے کے باوجود سال 2018میں پاکستان کو پولیو فری بنانے کا ہدف پورا نہ ہو سکا

ہفتہ جون 21:22

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جون2018ء) مسلسل 5ماہ بھر پور انسداد پولیو مہم چلانے کے باوجود سال 2018میں پاکستان کو پولیو فری بنانے کا ہدف پورا نہ ہو سکا 2017کے دوران پولیو کے 8کیسز ، 2016کے دوران 20کیسز جبکہ رواں سال اب تک پولیو کے 2کیسز بلوچستان میں رونماء ہو چکے ہیں پولیو کے حوالے سے شاہین مسلم ٹائون کے سیوریج پانی میں نمونے پائے گئے ہیں جبکہ شاہین مسلم ٹائون میں پولیو وائرس سے تین بچوں کے پراسرار طور پر جاں بحق ہونے کے بعد پولیو مہم چلانے میں حکام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

(جاری ہے)

وفاق نے سال 2018کے دوران ملک سے پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کاہدف مقرر کرتے ہو ئے جنوری سے مئی تک پانچ ماہ کے دوران ملک بھر میں مسلسل پانچ بار انسداد پولیو مہم چلانے کی حکمت عملی مرتب کی جس پر کامیابی سے عمل کیاگیا لیکن اس کے باوجود ملک سے کوئی بھی وائرس کے مکمل خاتمے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا ۔