ماحولیاتی آلودگی کیس؛ عدالت کی جانب سے اسموگ کمیشن کےسربراہ احمدپرویزکی رپورٹ اور تجاویز کی تعریف

حکومت اور عوام کی رائے کے بعد رپورٹ پر عملدرآمد کی طرف جائیں گے۔آنےوالے دسمبر ہم اسموگ برداشت نہیں کرسکتے، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے ریمارکس

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان اتوار جون 13:07

لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔10 جون 2018ء) سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ماحولیاتی آلودگی کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔اسموگ کمیشن کےسربراہ احمدپرویز نےاپنی رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔۔عدالت کی جانب سے رپورٹ اور تجاویز کی تعریف کی گئی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اس رپورٹ سے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ پر حکومت اور عوام کی رائے کے بعد عملدرآمد کی طرف جائیں گے۔۔چیف جسٹس نے اسموگ کمیشن کےسربراہ احمدپرویز کی بھی تعریف کی اور کہا کہ اشفاق احمد صاحب کہتے تھے کہ بابا وہ ہوتا ہے جو لوگوں کیلیے سہولیات پیدا کرے۔احمد پرویز بھی آج سے ہمارے بابے ہیں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ آنےوالےدسمبرہم اسموگ برداشت نہیں کرسکتے۔

چیف جسٹس نے اس کیس کی پچھلی سماعتوں میں ریمارکس دئیے تھے کہ یہ آئندہ نسلوں کی صحت کا معاملہ ہے، اس میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔جب کہ سموگ سے نمٹنے کیلئے محکمہ تحفظ ماحولیات نے منصوبہ تیار کرلیا۔ فضائی آلودگی پھیلانے والے بھٹوں کے خلاف شکنجہ تیارتیار کر لیا گیا ہے، محکمہ تحفظ ماحولیات نے پرانے روایتی بھٹے بند کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔

سموگ سے نمٹنے اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے لئے محکمہ تحفظ ماحولیات نے زگ زیگ بھٹے متعارف کروانے کے لئے منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ڈائریکٹر جنرل محکمہ تحفظ ماحولیات آصف اقبال نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ منصوبہ کے تحت آل پاکستان بھٹہ مالکان ایسوسی ایشن کی نیپال سے ٹریننگ کرائی جائے گی اور نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے لئے انجینئرز بھی فراہم کیے جائیں گے تاکہ ساڑھے دس ہزار پرانے بھٹوں کو جدید ٹیکنالوجی پر منتقل کیا جاسکے۔ ڈی جی ماحولیات کا کہنا ہے کہ صوبائی دارلحکومت میں سموگ ایک بڑا مسئلہ ہے، اگر تمام بھٹوں کو زگ زیب ٹیکنالوجی پر منتقل کر لیا جائے تو اس مسئلہ سے نپٹا جا سکتا ہے۔