پنجاب میں جنگلی حیات کا مکمل ڈیٹا مرتب کرنے کا فیصلہ

جنگلی حیات سے متعلق معلومات اکٹھی کرکے آرک جیو گرافک انفارمیشن سسٹم کے تحت میپنگ کافیصلہ کیا گیا ہے ‘خالد عیاض خان محکمہ کے 40افسران کو جنگلی حیات کے ڈیٹا کو میپ کی صورت میں تبدیل کرنے کے لئے جدید سافٹ وئیر اے آر سی جی آئی ایس کی تربیت دی جا رہی ہے‘ڈی جی وائلڈ لائف پنجاب

پیر جون 14:10

․لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2018ء) محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب نے جنگلی جانوروں اورپرندوں کی ٹریکنگ ، ان کی آماجگاہوں کی میپنگ اورجی پی ایس کے ذریعے جنگلی حیات کی لوکیشن کا حصول ممکن بنانے کا فیصلہ کر لیا اور جدید سافٹ وئیرکی مدد سے جنگلی حیات کا ڈیٹابھی مرتب کیا جاسکے گا۔تفصیلات کے مطابق لاہورمیں گرین پاکستان پروگرام کے تحت آرک جیوگرافک انفارمیشن سسٹم کے سافٹ ویئر سے متعلق ایک روزہ تربیتی ورکشاپ منعقد ہوئی جہاں ڈی جی وائلدلائف پنجاب خالدعیاض خان اورگرین پاکستان پروگرام کے پراجیکٹ ڈائریکٹرمیاں حفیظ احمد نے شرکا کو منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

ڈی جی وائلڈ لائف خالد عیاض نے بتایا کہ صوبہ بھر کی جنگلی حیات سے متعلق معلومات اکٹھی کرکے آرک جیو گرافک انفارمیشن سسٹم کے تحت اس کی میپنگ کافیصلہ کیا گیا ہے جس کے لئے محکمہ کے 40افسران کو جنگلی حیات کے ڈیٹا کو میپ کی صورت میں تبدیل کرنے کے لئے جدید سافٹ وئیر اے آر سی جی آئی ایس کی تربیت دی جا رہی ہے۔

(جاری ہے)

خالد عیاض نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے جنگلی جانوروں و پرندوں کی ٹریکنگ ، انکی آماہ جگاہوں کی میپنگ اور جی پی ایس کے ذریعے ان کی لوکیشن کا حصول بھی ممکن ہوگا ، صوبہ بھر کے تمام ریجنل دفاتر میں جی آئی ایس کے 8ریجنل نوڈز قائم کئے جا رہے ہیں جو ہیڈ کوارٹرز میں ایک مرکز ی جی آئی ایس لیب کے ساتھ منسلک ہونگے ۔

انہوں نے کہا کہ تربیت حاصل کرنے والے تمام افسران اپنے اضلاع میں موجود جنگلی حیات کا ڈیٹا اپنے متعلقہ ریجنل دفتر کی جی آئی ایس لیب کو فراہم کریں گے جو اس کو اس جدید سائنٹیفک سافٹ ویئر کی مدد سے میپ میں تبدیل کرکے ہیڈ آفس کی مرکزی لیب کو فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس جدید سافٹ ویئر کے ذریعے یہ جاننے میں آسانی ہو گی کہ جنگلی حیات کی کونسی آماجگاہ تباہی یا بہتری کی طرف گامزن ہے اور کس علاقے میں کس جنگلی حیات کی تعداد کتنی ہے تاکہ اس سلسلہ میں بروقت حکمت عملی تیار کی جا سکے۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر گرین پاکستان پروگرام میاں حفیظ احمد نے کہا کہ جنگلی حیات کے محفوظ اور زیادہ آبادی والے علاقوں اور یہاں پائے جانے والے جانوروں اور پرندوں کی آباد ی کی تعداد سے متعلق ڈیٹا جمع کرکے بھی ایک میپ تشکیل دیا جائے گا ، اس جدید سافٹ ویئر کے ذریعے صوبہ بھر کے وائلڈ لائف پارکس، چڑیاگھروں اور بریڈنگ سینٹرز میں موجود جانوروں اور پرندوں کی صحت اور ان کو فراہم کی جانے والی خورا ک اور دیگر سہولیات کی مانیٹرنگ کرنا بھی ممکن ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں وائلڈ لائف کے منصوبوں کے مینجمنٹ پلان کو بھی آرک جی آئی ایس سسٹم سے منسلک کیا جائے گا۔