دینی قوتیں ملک خلاف سازشوں ،بیرونی نظام کو مسلط کر نے کی ہر مہم کا مقابلہ کریں گی‘مولانا محمد امجد خان

،ایم ایم اے کا مقصد ملک میں اسلام کے عادلانہ نظام کا نفاذ ہے جس سے معاشرے کے ہر فرد کو حقوق ملیں گے

پیر جون 17:20

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2018ء) جمعیت علماء اسلام کے ڈپٹی سیکر ٹری جنرل اورمتحدہ مجلس عمل کے رابطہ سیکرٹری مولانا محمد امجد خان نے کہا ہے کہ ملک خلاف سازشوں اور بیرونی نظام کو مسلط کر نے کی ہر مہم کا دینی قوتیں ہر میدان میں مقابلہ کریں گی ،،ایم ایم اے کا مقصد ملک میں اسلام کے عادلانہ نظام کا نفاذ ہے جس سے معاشرے کے ہر فرد کو حقوق ملیں گے ،عوام عام انتخابات میں ملک کو لادین ریاست بنانے والوں کو عبرتناک شکست دیں گے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے 77کلب ابیٹ روڈ گراؤنڈ میں نماز عید کے اجتماع اور مختلف انتخابی حلقوں میں عوامی اجتما عات سے خطاب کر تے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کلمہ کے نام پر بنا مگر قوم کلمہ کے ثمرات سے محروم رہے،نئے نعروں کے نام پر قوم سے دھوکہ کیا گیا اسلامی نظام کے نفاذ کے بغیر ملک کا استحکام ممکن نہیںمتحدہ مجلس عمل الیکشن میں قوم کوحیران کن نتائج دے گی ایم ایم اے اس ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بناکر دم لے گی ۔

(جاری ہے)

مو لا نا محمد امجد خان نے کہا کہ قوم اسلام چاہتی ہے جو قوتیں پاکستان کے دینی تشخص کو ختم کرنا چاہتی ہیں جمعیت ان کے تعاقب میں ہے پاکستان میں مذہب بیزار قوتوں کو متحدہ مجلس عمل عمل عام انتخا بات میں انھیں شکست فاش دے گی ۔انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے طبقاتی‘ لسانی گروہی سیاست کی مخالفت کرتی ہے ،،نگران حکومت کی ذمے داری ہے وہ اپنی تمام تر توجہ شفاف اور پر امن انتخا بات پر مرکوز رکھے ۔

انہوں نے کہا کہ آج کچھ قوتیں مغربی تہذیب کو قوم پر مسلط کرنا چاہتی ہیں غیور محب وطن مسلمان انہیں انتخا بات میں مسترد کر دیں گے ۔ مو لا نا محمد امجد خان نے کہا کہ دین نام ہے اللہ کے آخری نبی ؐ کے ارشادات اور اپکی کی زندگی کے معمولات کا ہے جنھیں اپنا کر ہی مسلمان دنیا وآخرت میں کامیاب ہو سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آج مسلمانو ں کی نا کامی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جب سے مسلمان نے دولت کے حصول کو زندگی کا سب سے بڑا مشن بنا لیا ہے اور پھر حلال اور حرام کی تمیز بھی ختم ہو تی جارہی ہے اس وجہ سے گھروں میں بھی سکون ختم ہو گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ معاشرے میں فکر اخرت اور خوف خدا نا پید ہو تا جا رہا ہے۔