فاٹا قبائل کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے وفاق وسائل کی فراہمی میں تیزی لائی جائے، دوست محمد خان

قبائل پاکستان کے وفادار اور بلاتنخواہ سپاہی ہیں ٹیکس کلچر کے فروغ کے بغیر تیز تر ترقی ممکن نہیں ہمیں اس کا ادراک کرلینا چاہیے،فاٹا کے لوگ دہشت گردی کی جنگ میں سب کچھ کھو چکے ہیں، اٴْن کی بحالی اور آباد کاری کیلئے ایک جامع پلان ہونا چاہیئے، دہشت گردی قبائل کی تین نسلیں کھا گئیں،ان قربانیوں کو دیکھ کو زیادہ وسائل انضمام کے لئے فراہم ہونا چاہیے جو80فی صد قبائل کی بحالی اور 20فی صد ان کو ریلیف دینے پر خرچ ہوں گے،قبائل کی پاکستان سے جذباتی اور عملی لگاؤ ہماری طرف سے خصوصی پیکج کی متقاضی ہے، نگران وزیر اعلی کی ، صنعتکاروں، عوامی وفود سے گفتگو

پیر جون 20:30

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2018ء) خیبرپختونخوا کے نگران وزیراعلیٰ جسٹس(ر) دوست محمد خان نے کہا ہے کہ فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام اور قبائل کی قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے وفاق وسائل کی فراہمی میں تیزی لائی جائے۔ خوش قسمی سے قبائل کل وقتی پاکستان کے وفادار اور بلاتنخواہ سپاہی ہیں۔ٹیکس کلچر کے فروغ کے بغیر تیز تر ترقی ممکن نہیں ہمیں اس کا ادراک کرلینا چاہیے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں سرکاری افسران، عمائدین ، وکلاء ، صنعتکاروں اور لوگوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام خوش آئند ہے لیکن انضمام سے مختلف قسم کے چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں۔ فاٹا کے عوام ترقی کی دوڑ میں کافی پیچھے رہ گئے ہیں۔

(جاری ہے)

وہاں پر نہ تو حکمرانی کا سٹرکچر موجود ہے اور نہ فعال ادارے لیکن یہ مشکل کا م بھی نہیں۔

اس کے لئے صرف وسائل کی ضرورت ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاق جتنی تیز ی کے ساتھ وسائل فراہم کریں گے اٴْتنی تیزی کے ساتھ انضمام کا عمل تکمیل کو پہنچے گا۔ فی الوقت وفاق نے ناکافی گرانٹ جاری کی ہے۔ فاٹا کے لوگ دہشت گردی کی جنگ میں سب کچھ کھو چکے ہیں۔ اٴْن کی بحالی اور آباد کاری کیلئے ایک جامع پلان ہونا چاہیئے۔ دہشت گردی قبائل کی تین نسلیں کھا گئیں۔

ان قربانیوں کو دیکھ کو زیادہ وسائل انضمام کے لئے فراہم ہونا چاہیے جو80فی صد قبائل کی بحالی اور 20فی صد ان کو ریلیف دینے پر خرچ ہوں گے۔قبائل کی پاکستان سے جذباتی اور عملی لگاؤ ہماری طرف سے خصوصی پیکج کی متقاضی ہے۔ترقی کی بنیاد کے لئے صنعتی احیاء اور ٹیکس کلچر کے لئے تیاری ناگزیر ہے۔پرامن اور شفاف انتخابات آئینی، قانونی اور اخلاقی فریضہ ہے۔

پوری سرکاری مشینری اس فرض کی ادائیگی کے لئے تیار ہے۔ہمارے چیلنجز مختلف نوع کے ہیں ان چینلجز پر قابو پانے کے لئے ہماراعزم بھی اس سے بڑا ہے۔بہتر حکمرانی کے لئے میرٹ اور انصاف پر مبنی فیصلہ سازی کرنے کو فوقیت دیں گے۔آئینی اختیارات، اختیارات کی تقسیم اور عملدرآمد کی ہدایات جاری کر چکا ہوں۔ہم ا پنے پیچھے Strong legacyچھوڑیں گے جس میں آئندہ حکومتوں کے لئے اچھی حکمرانی یقینی بنانے کے اصول شامل ہوں گے۔

انہوں نے کہاکہ بی آر ٹی میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کی ہدایات جاری کر چکا ہوں۔جدید دور میں بڑے شہروں سے آبادی باہر منتقلی کے لئے سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ماحولیاتی آلودگی کم کرنے، پینے کی پانی کی فراہمی کے لئے اقدامات اٹھانے اور ڈرینج کی بہتری کے لئے ہدایات دے چکا ہوں۔اس ہفتے وزراء کو قلم دان تفویض کر رہے ہیں۔جن اضلاع میں جرائم کی شرح زیادہ ہے وہاں انتظامیہ اور پولیس مل کر جرائم کی شرح کم کریں۔