اقوام متحدہ کے سالانہ انٹرنیشنل بازار میں پاکستانی اسٹالز مقبول

لذیذ پاکستانی کھانوں اور ثقافتی اشیا نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی، ،ایسی تقریبات بین الاقوامی سطح پر کسی ملک کی ثقافت اور روایت کو متعارف کروانے کے لیے بہترین موقع ہوتی ہیں، ملیحہ لو دھی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی اہلیہ کیٹرینا پاکستانی اسٹالز سے متا ثر

منگل جون 16:05

نیو یا رک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2018ء) امریکا میں منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کے سالانہ انٹرنیشنل بازار میں لذیذ پاکستانی کھانوں اور ثقافتی اشیا نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی۔منگل کے روز اقوام متحدہ کے سالانہ انٹرنیشنل بازار میں پاکستان کے دیسی کھانوں سمیت روایتی کپڑوں، لیمپ اور دیگر چیزوں کی نمائش کی گئی اور انہیں فروخت بھی کیا گیا۔

اقوام متحدہ کا سالانہ انٹرنیشنل بازار اقوام متحدہ ویمن گلڈ کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا، جس میں سخت گرمی کے باوجود بھی لوگوں نے شرکت کی اور اس کی رونقیں بڑھا دیں۔اس تقریب میں دنیا بھر کے مختلف پکوانوں اور ان کی ثقافتی چیزوں کی نمائش کی گئی۔اس سالانہ بازار میں پاکستان کے دو اسٹالز لگائے گئے جن میں سے ایک پاکستانی کھانوں کا تھا اور دوسرا ثقافتی اشیا پر مشتمل تھا جب کہ پہلی بار اس میں ون بیلٹ، ون روڈ کے نام سے بھی ایک اسٹال لگایا گیا۔

(جاری ہے)

پاکستانی اسٹالز پر موجود سیخ کباب، بریانی، سموسوں، کپڑوں اور دیگر اشیا نے شرکا کی توجہ ایسی کھینچی کہ تمام چیزیں تقریب کے اختتام سے ایک گھنٹہ قبل ہی فروخت ہوگئیں۔اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی اہلیہ کیٹرینا واز پنٹو نے بھی شرکت کی، جنہیں سب سے زیادہ پاکستانی اسٹالز نے متاثر کیا۔یہاں سے انہوں نے کھانوں کے ساتھ پاکستانی ڈیجیٹل پرنٹ شال بھی خریدی۔

علاوہ ازیں انہوں نے پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کو بھی شاندار اسٹالز لگانے پر خوب سراہا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ملیحہ لودھی نے میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی تقریبات بین الاقوامی سطح پر کسی ملک کی ثقافت اور روایت کو متعارف کروانے کے لیے بہترین موقع ہوتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ سالانہ انٹرنیشنل بازار ایک شاندار میلہ ہے، جس کا حصہ بن کر انہیں بہت خوشی ہوئی ہے۔واضح رہے کہ اس سالانہ بازار کے انعقاد سے حاصل ہونے والی رقم سے دنیا کے غریب اور نادار افراد کی مدد کی جائے گی اور اسے بچوں اور خواتین کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔