مشتاق احمد یوسفی کے انتقال سے اردو ادب کے میدان میں جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ مدتوں پُر نہیں ہو سکے گا ، چیئرمین اکادمی ادبیات

جمعرات جون 17:00

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین سید جنید اخلاق نے کہا ہے کہ معروف مزاح نگار، ادیب اور دانشور مشتاق احمد یوسفی کے انتقال سے اردو ادب کے میدان میں جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ مدتوں پُر نہیں ہو سکے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے معروف مزاح نگار، ادیب اور دانشور مشتاق احمد یوسفی کے انتقال پر تعزیتی اجلاس میں کیا۔

اجلاس میں اکادمی ادبیات پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر راشد حمید اور اکادمی کے افسران و سٹاف نے شرکت کی۔ چیئرمین اکادمی نے کہا کہ مشتاق احمد یوسفی اپنی شگفتہ تحریروں اور منفرد اسلوب کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور تھے۔ بلا شبہ ان کی وفات سے یوسفی کا زرین باب بند ہوگیا ہے۔ اُن کی معروف تصنیفات میں ’’چراغ تلے ‘‘، ’’آبِ گم‘‘، ’’خاکم بدہن‘‘، ’’زرگزشت‘‘اور ’’شام شعرِ یاراں‘‘ شامل ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ مشتاق احمد یوسفی نے پاکستانی ادب میں گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ مشتاق احمد یوسفی کے انتقال سے اردو ادب ایک اہم لکھنے والے سے محروم ہوگیا ہے ۔اُن کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں 1999ء میں ’’ستارہ ٴ امتیاز‘‘ اور 2002ء میں ’’ہلالِ امتیاز‘‘ سے نوازا۔چیئرمین اکادمی ، سید جنید اخلاق نے کہا کہ مشتاق احمد یوسفی کو1999ء میں اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے بھی ملک کے سب بڑے ادبی ایوارڈ’’کمالِ فن ایوارڈ‘‘ سے بھی نوازا گیا۔

اس کے علاوہ انہیں ’’ہجرہ ایوارڈ‘‘ اور ’’آدم جی ایوارڈ ‘‘سے بھی دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان نے ’’معمارِ ادب ‘‘ کے تحت ’’مشتاق احمد یوسفی:فن و شخصیت‘‘(از طارق حبیب ) کی کتاب شائع کی ہے۔ چیئرمین اکادمی نے کہا کہ وہ سچے ، کھرے اور محب وطن لکھاری تھے، اُن کی اردو ادب اور مزاح کے میدان میں خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔

بلا شبہ اردو ادب ایک باکمال تخلیق کار سے محروم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام صدر دفتر اسلام آباد میں 27جون2018ء سہ پہر 4بجے اور چاروں صوبائی دفاتر میں بھی مشتاق احمد یوسفی تعزیتی اجلاس منعقد کئے جائیں گے ۔چیئرمین اکادمی سید جنید اخلاق اورڈائریکٹرجنرل اکادمی ڈاکٹر راشد حمید نے مرحوم کے لئے دعائے مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعاکی ۔

متعلقہ عنوان :