جنرل الیکشن بیلٹ پیپر کو محفوظ بنانے کیلئے تمام پیپر بیرون ملک سے منگوایا گیا ، سینٹ قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ

3ادارے بشمول پی سی پی ملکر جنرل الیکشن کے بیلٹ پیپرز کی چھپوائی کا عمل مکمل کریں گے، لوکل مارکیٹ میں مجوزہ کاغذ کے دستیاب نہ ہونے کے سبب انتخابات میں دھاندلی ممکن دکھائی نہیں دیتی، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کبینٹ کی منظوری سے ملک بھر کی انتظامی پوسٹوں پر تقرر تبادلے کئے ہیں، کمیٹی کو بریفنگ

جمعرات جون 21:31

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹسیکرٹریٹ کو بتایا گیا ہے کہ جنرل الیکشن 2018ء کے بیلٹ پیپر کو محفوظ بنانے کیلئے تمام پیپر بیرون ملک سے منگوایا گیا ہے، 3ادارے بشمول پی سی پی ملکر جنرل الیکشن کے بیلٹ پیپرز کی چھپوائی کا عمل مکمل کریں گے، لوکل مارکیٹ میں مجوزہ کاغذ کے دستیاب نہ ہونے کے سبب انتخابات میں دھاندلی ممکن دکھائی نہیں دیتی، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کبینٹ کی منظوری سے ملک بھر کی انتظامی پوسٹوں پر تقرر تبادلے کئے ہیں، پی ٹی اے کی ممبر کی 3سیٹوں میں سی2خالی ہیں اس لئے ممبر فنانس کو چیئرمین پی ٹی اے کا چارج دیا گیا ہے،کبینٹ سیکرٹری گزشتہ کی کابینہ اراکین سے تمام سرکاری گاڑیاں واپس لے لی ہیں، پہلا موقع ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی خواہش پر انتظامی سیٹوں پر تقرریاں کی جارہی ہیں، کمیٹی چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود نے اس موقع پر سنیئر افسران کو نظرانداز کے جونیئر افسران کو انتظامی پوسٹوں پر تعینات کرنے کے عمل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ڈویژن کو تمام کی گئی حالیہ تقرریوں اور مجوزہ افسران کی تفصیلات ایک ہفتے کے اندر پیش کرنے کی ہدایات کی ہیں، سینیٹ کبینٹ کمیٹی کے پہلے اجلاس میں کبینٹ ڈویژن، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور ڈویژنز کے ماتحت اداروں نے اپنے اپنے اداروں بابت تفصیلی بریفنگ دی کبینٹ ڈویژن کی سپیشل سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ ڈویژن میں سینگشنڈ اسامیوں کی تعداد 870ہے جس میں150اسامیاں خالی ہیں، پی ٹی اے چیئرمین نے بتایا کہ غیر اخلاقی مواد کی حامل 8لاکھ 50ہزار سائٹس اس وقت تک بلاک کی جاچکی ہیں بیت المال کے حکام نے بتایا کہ اس وقت ملک بھر میں پاکستان بیت المال کے کل38سویٹ ہومز چل رہے ہیں جن میں سے 6سویٹ ہومز پبلک پارٹنر شپ کے تحت چلائے جارہے ہیں، اس موقع پر ممبر کمیٹی سنیٹر جاوید عباس، سنیٹر نجم حمید، سیکرٹری کبینٹ، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، چیئرمین نیپرا،، ایم ڈی پرنٹنگ کارپوریشن پاکستان اور متعلقہ اداروں کے حکام شریک تھے۔

۔