نگران حکومت الیکشن ضابطہ اخلاق کے حوالے سے اے پی سی طلب کرے، امیر حیدر خان ہوتی

فرد واحد کی جانب سے حکومت اور الیکشن کمیشن کو ڈکٹیشن دینا سمجھ سے بالاتر ہے،تمام پارٹیوں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر سلوک ہونا چاہئے ،بیور وکریسی میں اکھاڑ پچھاڑ سے کچھ نہیں ہو گا ،پریس کانفرنس

جمعہ جون 22:58

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی نے کہاہے کہ بیوروکریسی میں اکھاڑ پچھاڑکی بجائے نگراں حکومت او رالیکشن کمیشن کو اپنے عملی اقدامات سے صاف اور شفاف انتخابات یقینی بنانا ہوں گے ایک مخصوص شخص کی طرف سے حکومت اور الیکشن کمیشن کوہدایات دینا سمجھ سے بالاتر ہے، تمام پارٹیوں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر سلوک ہونا چاہئے،حکومت الیکشن ضابطہ اخلاق کے حوالے سے اے پی سی طلب کرے،،،اے این پی انتخابات میں سرپرائز دے گی کسی پارٹی سے اتحاد نہیں ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہوتی ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر ضلع بونیر سے تعلق رکھنے والے جماعت اسلامی اورقومی وطن پارٹی کے رہنماؤں امیرزیب خان،اقبال خان نے اپنی پارٹیوں سے مستعفی ہوکر درجنوں ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کااعلان کیا ،ضلع بونیرکے حلقہ این اے 9کے امیدوارحاجی رؤف خان، پی کے 21کے امیدوار قیصر ولی، صوبائی نائب صدر حاجی محمد جاوید اورضلعی جنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان بھی موجود تھے، امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ 2013کے انتخابات میں مدمقابل امیدوار انتخابی مہم چلارہے تھے اوراے این پی ورکروں کے جنازے اٹھارہی تھی تاہم اس دفعہ حالات بہترہیں ان کاکہناتھاکہ دہشت گردی ابھی سوفیصد ختم نہیں ہوئی اس خطے کی صورتحال کے باعث مشکلات ضرورہیں ریاست کی ذمہ داری ہے کہ تمام پارٹیوں کے کارکن خطرے کے بغیر انتخابی مہم چلائیں، اے این پی کے صوبائی صدر نے نام لئے بغیر کہاکہ ایک مخصوص شخص حکومت اور الیکشن کمیشن کو چیف ایگزیکٹو کی طرح ہدایات دے رہا ہے اور گذشتہ روز اس نے اپنے دوست کا نام بلیک لسٹ سے نکلوا کر کر مکمل پروٹوکول کے ساتھ نورخان ائیر بیس سے بیرون ملک بھجوا دیا، انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن اس بات کا نوٹس لے اورتمام سیاسی پارٹیوں سے یکساں سلوک کیاجائے، انہوں نے صوبے میں بڑے پیمانے پر آفیسروں کے تبادلوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ چہرے بدلنے سے کچھ نہیں ہوگا نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن کو اپنے عمل سے غیر جانبداری اورانتخابی شفافیت ثابت کرناہوگی اورالیکشن قوانین اورضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کراناہوگا، انہوں نے ایک سوال کے جواب میں اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ ہماری پارٹی کسی سے انتخابی اتحاد نہیں کرے گی سولو فلائٹ کرکے سرپرائز دیں گے، انتخابات کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد دیگر پارٹیوں سے اتحاد اور ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ ہوگا، امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی امتیازی سلوک کی کھل کر مخالفت کرے گی ہماری تجویز ہوگی کہ نگراں حکومت ضابطہ اخلاق کے لئے تمام پارٹیوں پر مشتمل اے پی سی طلب کرکے لائحہ عمل ترتیب دیاجائے اور تمام پارٹیوں اور لیڈر شپ سے یکساں سلوک کیاجائے، انہوں نے مزیدکہاکہ اے این پی اپنی کارکردگی کی بنیادپر انتخابات میں حصہ لے رہی ہے ہم نے سب سے پہلے امیدواروں کافیصلہ کیا، قبل ازیں انہوں نے پارٹی میں نئے شامل ہونے والے ضلع بونیر کے عمائدین کو مبارک بادیتے ہوئے کہاکہ اے این پی پختون قوم کے حقوق کی جنگ لڑرہی ہے فاٹا کے انضمام کے بعدآئندہ حکومت مزید اقدامات اٹھاکر قبائلی پختونوں کی محرومیوں کاازالہ کریں تاکہ وہاں یکساں ترقی کے مواقع میسر ہوں۔