مریم نواز کی لابی کامیاب ، چودھری نثار علی خان کو پارٹی سے باہر کر دیا گیا

مریم نواز کی لابی نے چودھری نثار علی خان کو پارٹی سے نکالنے کا منصوبہ بنایا تھا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر جون 12:18

مریم نواز کی لابی کامیاب ، چودھری نثار علی خان کو پارٹی سے باہر کر دیا ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 25 جون 2018ء) : مریم نواز کی لابی چودھری نثار علی خان کو پارٹی سے نکلوانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق چودھری نثار علی خان کے حلقے میں ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور ان کا گروپ ناکام ہو گیا جبکہ مریم نواز کی لابی کامیاب ہو گئی ہے۔ چودھری نثار علی خان کو پارٹی سے فارغ کرنے کی مریم نواز لابی کی کوششیں کامیاب ہو گئیں۔

ن لیگ کے سینئیر رہنما چودھری نثار کے حلقوں میں ٹکٹ جاری کرنے پر مسلم لیگ ن کے اندر مصالحتی گروپ نے اسے اپنی ناکامی اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ گروپ کی کامیابی قرار دے دیا۔ پہلی فہرست میں ن لیگ نے چودھری نثار کے حلقوں میں اپنے اُمیدوار وں کا اعلان نہیں کیا تھا ۔قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے قریبی مصالحتی گروپ کے اس اقدام پر پرویز رشید اور مریم نواز کے قریبی ساتھی سخت نالاں تھے اور انہوں نے اس حوالے سے مریم نواز اور نوازشریف سے لندن میں فون پر بات چیت بھی کی جس پر نواز شریف اور مریم نواز نے انہیں یقین دہانی کروائی تھی کہ جو نواز شریف کے بیانیہ کے ساتھ نہیں ہو گا اس کو کسی صورت بھی قبول نہیں کریں گے ۔

(جاری ہے)

ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف اورمریم نواز نے سخت ترین الفاظ میں یہ واضح پیغام دیا تھا کہ چودھری نثار کے حلقے میں ن لیگ کے اُمیدواروں کو نامزد کیا جائے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت پیغام کے بعد مصالحتی گروپ خود ہی پیچھے ہٹ گیا اور چودھری نثار کے مقابلے میں ن لیگ کے اُمیدواروں کا اعلان کر دیا گیا ۔ذرائع کے مطابق ن لیگ کے اندر سینئر رہنما اسے شہباز شریف کی ہار اور مریم کی جیت قرار دے رہے ہیں اور کچھ رہنماؤں نے تو یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ ن کے اندر اینٹی اسٹیبلشمنٹ لابی زیادہ مضبوط ہے ، یہی وجہ ہے کہ پارٹی صدر شہباز شریف کے فیصلے نہیں مانے جارہے ۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے گذشتہ ہفتے سینئیر رہنما چودھری نثار علی خان نے بھی مسلم لیگ ن کی قیادت پر براہ راست تنقید نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چودھری نثار علی خان نے مسلم لیگ ن کی قیادت ، نواز شریف اور مریم نواز پر براہ راست تنقید نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ گذشتہ ہفتے کی گئی پریس کانفرنس میں بھی چودھری نثار علی خان نے پارٹی قیادت کو نہ تو کسی تنقید کا نشانہ بنایا اور نہ ہی ان پر کوئی الزامات عائد کیے۔

جس کے بعد سابق حکومتی جماعت مسلم لیگ ن نے چودھری نثار علی خان کو ٹکٹ دینے کا اعلان کر دیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چودھری نثار علی خان کو این اے 59 اور این اے 63 سے ٹکٹ جاری کیا گیا تھا۔ چودھری نثار علی خان لاہور کے دو حلقوں سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق چودھری نثار علی خان کے رویے میں نرمی کی وجہ سے ہی ان کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔

تاہم گذشتہ روز مسلم لیگ ن نے عام انتخابات 2018ء کے لیے مزید اُمیدواروں کا اعلان کیا تھا ۔ مسلم لیگ ن نے چودھری نثارکے مقابلے میں اپنے اُمیدواروں کو بھی پارٹی ٹکٹ جاری کیے۔ مسلم لیگ ن نے این اے 59 اورپی پی 10 کے لیے راجہ قمرالاسلام کو ٹکٹ جاری کردیا۔ پی پی 13سے چودھری سرفراز افضل کوبھی ن لیگ کا ٹکٹ جاری کیا گیا جب کہ ممتا زخان کو این اے 63کے لیے مسلم لیگ ن کا ٹکٹ جاری کر دیا گیا۔پی پی 20سے راجا سرفراز اصغر،پی پی 12 کے لیے فیصل قیوم ملک کو ن لیگ کا ٹکٹ جاری کیے گئے۔پی پی 19کے لیےذیشان صدیق بٹ کومسلم لیگ ن نے ٹکٹ جاری کردیے۔