متحدہ عرب امارات: مملکت کو غیر مُلکی مجرموں اور بھگوڑوں سے پاک کرنے کے لیے آپریشن میں تیزی

بلدیہ ٹاؤن آتش زنی واقعے کا ملزم حماد صدیقی بھی گزشتہ ہفتے پاکستان کے حوالے کیا گیا

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر جون 15:26

متحدہ عرب امارات: مملکت کو غیر مُلکی مجرموں اور بھگوڑوں سے پاک کرنے ..
دُبئی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔25جُون 2018ء) متحدہ عرب امارات کو غیر مُلکی جرائم پیشہ افراد اور اشتہاریوں سے محفوظ بنانے کے لیے مہم میں تیزی لائی گئی ہے جس کے باعث 2018کی پہلی سہ ماہی کے دوران مختلف مُلکوں کو مطلوب جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کر کے اُن کے آبائی وطن بھیجنے کی تعداد میں 108فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ دُبئی پولیس کے اسسٹنٹ کمانڈر انچیف میجر جنرل خلیل ابراہیم المنصوری نے بتایا کہ 2018ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران دُبئی پولیس نے مختلف ملکوں کو مطلوب 25 غیر مُلکی افراد کو گرفتار کر کے اُن کے متعلقہ وطن میں بھیج دیا ہے۔

ان افراد کی حوالگی کے لیے مختلف ممالک کی طرف سے درخواستیں کی گئی تھیں جن پر عمل درآمد کرتے ہوئے ان رُوپوش افراد کا پتا لگا کر انہیں گرفتار کیا گیا۔

(جاری ہے)

جبکہ 2017ء کی آخری سہ ماہی کے دوران ان کیسز میں گرفتار کیے گئے افراد کی گنتی 12 تھی۔ المنصوری کے مطابق امارات میں رُوپوش غیر مُلکی بھگوڑوں اور جرائم پیشہ افراد کا پتا چلانے کے لیے مملکت کے مختلف علاقوں میں تربیت یافتہ افراد تعینات کئے گئے ہیں۔

انٹرپول کی جانب سے ریڈ وارنٹ ہونے کے بعد ہی مختلف ملکوں کو مطلوب افراد کے حوالے کارروائی کی جاتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل دُبئی پولیس نے پاکستان کے شہر کراچی میں بلدیہ ٹاؤن میں 2012ء کے دوران فیکٹری کی مبینہ آتش زنی کے واقعے میں مطلوب ملزم حماد صدیقی کا متحدہ عرب امارات میں ٹھکانے کا پتالگا کر اُسے گرفتار کرنے کے بعد پاکستان کے حوالے کر دیا۔

اس خوفناک واقعے میں 259 معصوم لوگوں کی جانیں گئی تھیں جبکہ درجنوں زخمی بھی ہوئے تھے۔ اس کیس کے حوالے سے مزید معلومات دیتے ہوئے دُبئی پولیس کے مطلوب ملزمان کے ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کرنل سعید عبداللہ نے بتایا ’’ بلدیہ ٹاؤن کیس میں مطلوب حماد صدیقی 2012ء میں پاکستان سے فرار ہو کر متحدہ عرب امارات میں تبدیل شدہ نام والے پاسپورٹ سے داخل ہوا۔

ہمارے پاس مشکوک شناخت والے لوگوں کی جانچ کا پروگرام موجود ہے۔ جس وقت ہمیں حماد صدیقی کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ موصول ہوئے تو ہم نے دس دِنوں کے اندر اس کی شناخت کر لی۔ پہلے ہم نے حماد صدیقی کے نام سے امیگریشن ریکارڈ چیک کیا تو اس میں اس نام کے کسی بندے کی امارات میں انٹری ظاہر نہیں ہوئی تھی۔ مگر بعد میں ہم نے اس کی تصویر کو بنیاد بنا کر چیک کیا تو انکشاف ہوا کہ وہ اس مُلک میں تبدیل شدہ نام کے ساتھ داخل ہوا تھا۔

جس کے بعد ملزم کو پھانسنے کے لیے ایک جال بُنا گیا جس کے باعث وہ ہمارے قابو میں آ گیا اور اس نے اپنی اصل شناخت ظاہر کر دی۔ ملزم پاکستان کی عدالتوں کو مطلوب تھا اور اسے غیر موجودگی میں سزائے موت بھی سُنائی گئی تھی۔ ضروری کارروائی کے بعد اسے گزشتہ ہفتے پاکستان کی ایک انٹیلی جنس ایجنسی کے حوالے کر دیا گیا جو اسے اسلام آباد لے گئی۔ ‘‘