کوئٹہ،ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کانگران وفاقی حکومت کی طرف سے گیس کے قمیتوں میں 300% اضافے کی مجوزہ خبر پر شدیدتشویش کا اظہار

پیر جون 22:23

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی بیان میں نگران وفاقی حکومت کی طرف سے گیس کے قمیتوں میں 300% اضافے کی مجوزہ خبر پر شدیدتشویش کا اظہار کرتے ہوئے اوگرا کی جانب سے ایسے کسی بھی تجویز کو عوامی مفادات کے خلاف بد ترین تجویز قرار دیتے ہوئے ایسے ہرطرح کی تجویز کی شدید الفاظ میںمذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پہلے ہی سے بیروزگاری،غربت مہنگائی کی وجہ سے عام آدمی کازندہ رہنا مشکل ہوگیا ہیں اب مہنگائی بموں کے زریعے غریب عوام سے سانس لینے کی بھی قمیت وصول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہیں جو انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت اقدام عمل ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ میاںصاحب کی حکومت نے ملک کو ونیٹی لیٹر کے ذریعے منصوعی سانس فراہم کرنے کی کوشش میں غریب عوام کی راتوں کی نیند تک حرام کر رکھی ہے ان کے اقدامات و فیصلوں کی سزااب ملنے کی نوید دی جا رہی ہیں ایک طرف ڈالر کی قمیت میںراتوں رات اضافہ دیکھنے کو ملاتو دوسری طرف پیٹرولیم مضوعات کی قمیتوں میں اضافہ کرکے عوام پر مہنگائی کا بم گرایا گیا ،اب گیس کی قمیتوں میں300%اضافے کی خبرچلا کر عوام کو بتایا گیا ہے کہ اس کے بعد صرف سانس مفت لینے کی اجازت حاصل ہے جس پر نا معلوم کب ٹیکس لگا کر ان سے مفت سانس لینے کی سہولت بھی واپس لی جائیگی۔

(جاری ہے)

بیان میں کہا گیا کہ کوئٹہ شہر کے کئی علاقوں میں پہلے مرحلے میںبرق رفتار میٹروں کی تنصیب کی گئی اب گھریلوصارفین گیس استعمال کریںیا نہ کریںانکے میٹرماہانہ بنیادوں پر کئی کئی سو استعما ل ہونے کی خبر دیگا اس شہر اور سرد علاقوں میں سخت ترین سردیوں کے ایام میں گیس کی عدم فراہمی و پریشر کی کمی کا جس طرح مسلہ رہتا ہیں اگر ماہانہ ہزاروں روپے کے واجبات کے بل موصول ہونا شروعہوا تو عوام کا جینامحال ہوکر رہ جائیگا۔

بیان میں کہا گیا کہ ایسے کسی بھی فیصلے سے قبل نگران حکومت آئینی و قانونی اختیارات کا جائزہ لیںکہ کیا آئین انھیں یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ عوام پر مہنگائی کا بم گرا سکیں اگر ان کے پاس اس طرح کے اختیارات موجو د نہیں تو نگران حکومت ایسے تمام فیصلے آنے والے اسمبلیوں اور حکومتوں کو کرنے دیں جو عوامی منیڈیٹ کے ساتھ مکمل با اختیار ہو کر فیصلے کرنے کی پوزیشن میں آجاتے ہیں۔