شہریوں کو رضاکارانہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے،

اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کے تحت آئندہ پاکستانیوں کیلئے غیر ممالک میں سرمایہ رکھنا ممکن نہیں ہوگا دبئی حکام نے رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانیوں کی تفصیلات فراہم کر دی ہیں، 85 فیصد رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی ڈیٹا میپنگ مکمل کر لی، جو لوگ موجودہ سکیم سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے ان سے ضرور پوچھ گچھ ہو گی، چیئر مین ایف بی آر

منگل جون 16:08

شہریوں کو رضاکارانہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے،
فیصل آباد۔26 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) چیئرمین طارق محمود پاشا نے کہا ہے کہ دبئی حکام نے رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانیوں کی تفصیلات مہیا کر دی ہیں، ایف بی آر نے 85 فیصد رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی ڈیٹا میپنگ بھی مکمل کر لی ہے جو لوگ موجودہ سکیم سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے ان سے ضرور پوچھ گچھ ہو گی،اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کے تحت آئندہ پاکستانیوں کیلئے غیر ممالک میں سرمایہ رکھنا ممکن نہیں ہوگا لہٰذا شہریوں کو رضاکارانہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہئے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے ایوان صنعت و تجارت فیصل آباد میں بزنس کمیونٹی سے خطاب کے دوران کیا۔انھوں نے کہا کہ کرپشن اور جرائم سے حاصل کیے گئے پیسے کو اس سکیم کے تحت تحفظ حاصل نہیں ہوگا اس لیے جن لوگوں نے کسی مجبوری کی وجہ سے اپنے سرمائے کو غیر ممالک رکھا ہوا ہے ا ن کیلئے اپنے سرما ئے کو جائز قرار دینے کا ایک آخری موقع ہوگا۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ یکم ستمبر 2018 ء سے یہ کثیر الجہتی کنونشن مو ثر ہو جائیگا جس کے تحت پاکستان سمیت 102 ممالک ایک دوسرے کو غیر ملکی سرما یہ بارے اطلاعات فراہم کرنے کے پابند ہوں گے ۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ لوگ اب سرمایہ واپس پاکستان لے آئیں گے تو ان کو فائدہ ہوگا ورنہ دوسرے ملک میں ان کو اپنے سرما ئے اور اثاثوں پر پورا ٹیکس دینا پڑے گا جبکہ ان کیخلاف مجرمانہ فعل کے مرتکب ہونے کی کارروائی بھی ہو سکے گی۔ انہوں نے بتایا کہ دبئی نے رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانیوں کی تفصیلات فراہم کر دی ہیں لہٰذا اگر ان میں سے کسی نے اپنے سرمایے کو اب جائز نہ کرایا تو پھر ان کیخلاف مروجہ قوانین کے تحت کارروائی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سرمائے اور اثاثوں پر 2 سے 5 فیصد کو ٹیکس یا جرمانہ نہ سمجھا جائے بلکہ اس کو ذہنی سکون کا ذریعہ سمجھیں تاکہ وہ کھل کر کاروبار کر سکیں۔ ڈومیسٹک سکیم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہاں زیادہ تر سرمایہ رئیل اسٹیٹ میں چھپایا گیا ہے، بے نامی اکائونٹس کے بارے میں چیئرمین نے کہا کہ بھائی بہن یا رشتے داروں کے نام پر رکھے گئے سرمائے کو بھی ڈکلیئر کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ ان کے بھائی یا رشتہ دار کو اعتراض نہ ہو۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس سکیم کے تحت فراہم کی جانے والی معلومات راز میں رہیں گی اور انہیں کسی ادارہ کو مہیا نہیں کیا جا سکے گا۔ سرکاری ادروں کے آفس ہولڈرزسرمایہ کاروںکے اس سکیم سے فائدہ اٹھانے بارے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ فنانس بل میں اس کی وضاحت کر دی گئی ہے اور وہ بھی اس سکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ چیئرمین طارق محمود پاشا نے بتایا کہ اس سکیم کی وسیع پیمانے پر تشہیر کی جا رہی ہے وہ خود مختلف شہروں میں جا کر اس سکیم کی وضاحت کر رہے ہیں جبکہ اس سکیم بارے تفصیلات دفتر خارجہ اور غیر ملکی سفارتحانوں کو بھی بھجوائی جا رہی ہیں تا کہ وہ ان ملکوں میں سرمایہ یا اثاثے رکھنے والوں کو اس سکیم کی افادیت سے آگاہ کر سکیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس سکیم کا مقصد ملکی معیشت کو بحران سے نکالنا ہے اس لئے غیر ملکی سرمائے اور اثاثوں پر ٹیکس ڈالر میں ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے غیر ملکی اثاثوں پر ٹیکس کی ادائیگی کو مقامی مارکیٹ سے ڈالر خرید کر ادائیگی کرنے کی حوصلہ شکنی کیلئے بھی ضروری اقدامات کئے ہیں جبکہ سٹیٹ بینک نے ٹیکس کی ادائیگی کیلئے ڈالر بانڈ جاری کئے ہیں، ان کو ایک سال بعد تین فیصد منافع پر کیش کرایا جا سکے گا۔

2014ء ڈی کے تحت آڈٹ کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اس کی مدت چند روز رہ گئی ہے جس کے بعد کسی بھی ٹیکس گزار کا آڈٹ تین سال میں صرف ایک بار ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے سال زیر التواء کیسوں کو نمٹایا جائیگا جبکہ آئندہ سالوں میں ان کی تعداد میں بتدریج کمی ہوگی کیونکہ نئے آڈٹ کیسوں میں اضافہ نہیں ہوگا۔ ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے ہٹ کر دیگر مسائل کے حل کیلئے انہوں نے متعلقہ شعبہ کے لوگوں کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی تا کہ ان کے مسائل پر تفصیلی گفتگو ہو سکے تاہم انہوں نے کہا کہ بجٹ سے متعلقہ مسائل کو آئندہ سال جون تک ملتوی نہ کیا جائے ان پر ابھی سے مثبت تجاویز دی جائیں تا کہ ایف بی آر ان پر ضروری کارروائی کرکے ان تجاویز کو حتمی شکل دے سکے۔