ایڈیشنل سیشن جج گل ضمیر سولنگی کا سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا استعفی جعلی ہے-سندھ ہائی کورٹ

رولزکے مطابق ایڈیشنل سیشن جج اپنا استعفی سیشن جج کو ارسال کرتاہے ہائی کورٹ کو نہیں -ذرائع

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل جون 17:03

ایڈیشنل سیشن جج گل ضمیر سولنگی کا سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا استعفی ..
کراچی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔26 جون۔2018ء) سندھ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ لاڑکانہ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج گل ضمیر سولنگی کا استعفیٰ موصول نہیں ہوا, سوشل میڈیا پر چلنے والا استعفی سادہ کاغذ ہے۔۔سندھ ہائی کورٹ آفس کے ذرائع نے کہا ہے کہ ایڈیشنل سیشن جج اپنا استعفی سیشن جج کو ارسال کرتاہے،متعلقہ سیشن جج پیش کردہ استعفی پر کارروائی کرسکتے ہیں، سادہ کاغذ،غیرمتعلقہ فارم کے ذریعے استعفی پرکارروائی نہیں کر سکتے۔

اس سے قبل جج گل ضمیر سولنگی کے استعفیٰ دینے سے متعلق خبریں گردش کر رہی تھیں کہ جج گل ضمیر سولنگی نے احتجاجاًاستعفیٰ دے دیاہے، ان کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کادورہ الیکٹرانک،پرنٹ اورسوشل میڈیاپردکھایا گیا جس سے میری تذلیل ہوئی اورانہوں نے اپنا استعفیٰ سندھ ہائیکورٹ کے رجسٹرار کوبھیج دیا ہے۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار 23 جون کو لاڑکانہ پہنچے تھے اورانہوں نے سیشن کورٹ کا دورہ کیا جہاں ایڈیشنل اینڈ سیشن جج گل ضمیر سولنگی کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ، سماعت کے دوران سیشن جج کے موبائل فون کی گھنٹی بھی بج اٹھی جس پرچیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار کیاتھا۔

سوشل میڈیا اور نجی ٹی وی چینلزپر چلنے والی خبر وں کے مطابق دوران سماعت موبائل فون رکھنے پر چیف جسٹس کی جانب سے اظہار برہمی کرنے پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج گل ضمیر سولنگی نے استعفیٰ دیدیا ہے۔۔چیف جسٹس کی جانب سے دوران سماعت موبائل فون رکھنے پر اظہار برہمی پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاڑکانہ گل ضمیر سولنگی نے استعفیٰ دے دیا ہے، انہوں نے اپنا استعفیٰ رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کو ارسال کردیا ہے۔

استعفیٰ کے متن میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے عدالتی کارروائی کے دوران میری عدالت کا دورہ کیا اور اس دورے کو الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر دکھایا گیا، ویڈیو سے میرے خلاف غصہ پیدا ہوا جس سے میری بے عزتی ہوئی لہذا ان حالات میں اپنی نوکری جاری نہیں رکھا سکتا اور عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔