این اے 53کاغذات نامزدگی درست قرار ، الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے آر او کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

منگل جون 21:33

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) اسلام آباد ہائی کورٹ میں گزشتہ روز سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے این اے 53 سے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی،،سماعت الیکشن ٹریبونل کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کی،انتخابی ٹربیونل نے شاہد خاقان عباسی کے کاغذات نامزدگی درست قرار دیتے ہوئے آر او کا فیصلہ کالعدم قرار دیا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ عدالت امیدوار کی جانب سے سوال "این" کے تحت دئیے گئے جوابات سے مطمئن ہے۔۔شاہد خاقان عباسی کے وکیل نے کہا کہ متعلقہ آر او نے بیان حلفی بروقت جمع نہ کرانے پر کاغذات نامزدگی مسترد کئے تھے،،سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ آر او کے سامنے بیان حلفی جمع نہ کرانے پر کہا تھا کہ ایسے میں کاغذات نامزدگی نامکمل تصور ہونگے۔

(جاری ہے)

شاہد خاقان عباسی نے اپنے بیان میں کہا کہ میں آٹھ بار رکن پارلیمنٹ منتخب ہوا،سٹرکیں مرکزی اور صوبائی حکومتیں بناتی ہیں،ہماری بڑی کامیابی عوام کی خدمت ہے، جس کا ذکر میں کاغذات میں کیا،ہماری کامیابی جمہوری نظام کی حفاظت ہے جو میں نے کی اور اس کا ذکر کاغذات میں کیا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اہم کامیابیوں کے ذکر پر کئی امیدواروں کے کاغذات مسترد ہوئے،کامیابیوں کا دارومدار پر امیدوار پر الگ سے ہو گا،میرے خیال میں کسی امیدوار کی کارکردگی کو جانچنا حلقے عوام کا حق ہے آر او کانہیں۔