وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف دائر اپیل منظور

بدھ جون 18:31

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف دائر ..
راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) عدالت عالیہ راولپنڈی بنچ کے جسٹس عبادالرحمان لودھی پر مشتمل خصوصی الیکشن ایپلٹ ٹریبونل نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 57((مری )سے مسلم لیگ ن کے امیدوار و سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف دائر اپیل منظور کر لی ہے اور شاہد خاقان عباسی کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے سے متعلق ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کو الیکشن کے لئے نااہل قرار دے دیا ہے فاضل ٹریبونل نے این اے 57کے ریٹرننگ افسر کو فارغ کرنے کا حکم دیتے ہوئے رجسٹرار ہائی کورٹ کوریٹرننگ افسر کے خلاف تحقیقات کا بھی حکم دیا ہے اورالیکشن کمیشن کو ہدائیت کی ہے کہ اس حلقے میں فوری نیا ریٹرننگ افسر تعینات کیا جائے شاہد خاقان عباسی کے خلاف مسعود احمد عباسی ایڈووکیٹ نے ووٹر کی حیثیت سے ٹریبونل میں ریٹرننگ افسر حیدر علی کی جانب سے شاہد خاقان عباسی کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف دائر اپیل میں موقف اختیار کیا تھا کہ درخواست گزار کی جانب سے شاہد خاقان عباسی کے کاغذات پر درخواست گزار کے اعتراضات کے بعد ریٹرننگ افسر کی ملی بھگت سے کاغذات میں ردو بدل کیا گیا کاغذات نامزدگی میں کالم ایل کو کالی چھوڑ دیا گیا جس پر اعتراض کے بعد نئے فارم داخل کراکے اس کالم کو پر کیا گیا اسی طرح کاغذات کے ساتھ پہلے 500روپے کی بجائے 100روپے کا بیان حلفی جمع کرایا گیا بعد ازاں وہ بھی تبدیل کیا گیا اسی طرح 9جون کو کاغذات جمع کراتے وقت جو دستاویز جمع کرائی گئیں ان میں نادرا کی جانب سے جاری سرٹیفکیٹ 11جون کے جاری کردہ تھے درخواست گزار نے مزیدموقف اختیار کیا تھا کہ شاہد خاقان عباسی میں لارنس کالج مری میں سرکاری جگہ پر ذاتی ہوٹل بنایااور اسلام آباد کے سیکٹر F/7-2میں بھی واقع کوٹھی کو ذاتی طاہر کر کے اس پر قرضہ حاصل کیا اپیل کی سماعت کے دوران فاضل ٹریبونل نے این ای57کے ریٹرننگ افسر حیدر علی کو طلب کیا تھا جہاں پر ریٹرننگ افسر نے موقف اختیار کیا کہ کاغزات نامزدگی کا کالم ایل میرے سامنے بھرا گیا تاہم ریٹرننگ افسر نے تسلیم کیا کہ اس حوالے سے انہوں نے کوئی تحریری اجازت نامہ جاری نہیں کیا تھا جس پر فاضل ٹریبونل نے ریٹرننگ افسر کے اختیارات واپس لے کر اسے معطل کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ ٹریبونل نی25جون کو اپیل کی سماعت مکمل کرنے کے بعدفیصلہ محفوظ کیا تھا بدھ کے روز فاضل ٹریبونل نے اپیل میں عائد الزامات درست قرار دیتے ہوئے شاہد خاقان کے خاغذات نامزدگی مسترد قرار دے دیئے اور انہیں الیکشن کے ناہل قرار دینے کے ساتھ ریٹرننگ افسر کے خلاف بھی تحقیقات کا حکم دیا ہے دریں اثنا شاہد خاقان عباسی کے خلاف اپیل کنندہ مسعود احمد عباسی نے ٹریبونل کے فیصلے کے بعد ہائی کورٹ کے احاطہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ این ای57سے ناہلی کے بعد آرٹیکل62(i)Fکے تحت شاہد خاقان عباسی اسلام آبادکے حلقہ این ای53 سمیت پاکستان میں کسی بھی حلقے سے الیکشن لڑنے کے اہل نہیں رہے اب ان کے پاس الیکشن لڑنے کے لئے سپریم کورٹ کے علاوہ راستہ نہیں ہے اگر انہیں سپریم کورٹ اجازت دے گی تو وہ الیکشن میں حصہ لے سکیں گے انہوں نے کہا کہ اپیل منظور ہونے پر تحریک انصاف کے سربراپہ عمران خان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا آج رائیونڈ کے ایک اور درباری کی وکٹ گر گئی ہے اور قادیانیوں کو اپنا بھائی کہنے والے نواز شریف کا ایک چیلہ نااہل ہو گیا ہی