این اے 126 میں شیر دھاڑے گا یا بلا چلے گا،عوام الیکشن کے لیے بیتاب

حلقے کے ووٹرز کی رائے تقسیم نظر آتی ہے،عوام کا ایک بڑا طبقہ پاکستان تحریک انصاف کے ذریعے تبدیلی لانا چاہتا ہے تو دوسری جانب ن لیگی کارکنان ابھی بھی مسلم لیگ ن کی فتح ہی یقینی دیکھ رہے ہیں

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس بدھ جولائی 19:20

این اے 126 میں شیر دھاڑے گا یا بلا چلے گا،عوام الیکشن کے لیے بیتاب
لاہور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 11جولائی 2018ء) :این اے 126 میں شیر دھاڑے گا یا بلا چلے گا،عوام الیکشن کے لیے بیتاب ہیں۔ حلقے کے ووٹرز کی رائے تقسیم نظر آتی ہے،عوام کا ایک بڑا طبقہ پاکستان تحریک انصاف کے ذریعے تبدیلی لانا چاہتا ہے تو دوسری جانب ن لیگی کارکنان ابھی بھی مسلم لیگ ن کی فتح ہی یقینی دیکھ رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق  الیکشن کے دن قریب سے قریب تر آرہے ہیں۔

سیاسی جماعتوں نے الیکشن کی تیاریاں شروع کر رکھی ہیں۔۔ایسے اداروں کی جانب سے الیکشن کی تمام تر کاروائی کو تیزی سے آگے بڑھائی جارہی ہے۔تاحال سیاسی وفاداریوں کو تبدیل کئیے جانے کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔اس سارے معاملے میں سب سے اہم فریق ووٹر ہے جو اس سارے عمل کو انتہائی دلچسپی سے دیکھ رہا ہے اور 25 جولائی اور اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے انتہائی پرجوش ہیں۔

(جاری ہے)

ووٹرز نے ابھی سے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ کس پارٹی کو ووٹ دینا ہے اور کس کو نہیں۔2018 کے سال کو تبدیلی کا سال قرار دیا جارہا ہے۔اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں سیاسی مخالفین کو دھول چٹانے کی تیاریاں کر لی ہیں۔ایک جانب سیاسی جماعتوں کی جانب سے سیاسی پاور شو کئیے جا رہے ہیں تو دوسری جانب ووٹرز کو ترغیب دلانے کے لیے وعدے وعید اور منشور کا سہارا لیا جارہا ہے۔

اس حوالے سے سامنے آنے والے سروے بھی انتخابات کے نتائج کو واضح کررہے ہیں ۔ایسا ہی ایک سروے لاہور کے حلقہ این اے 126 میں کیا گیا جہاں سے مسلم لیگ ن کے مہر اشتیاق واجد 2013 کا الیکشن جیت چکے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے حماد اظہر کو اس حلقے سے شکست ہوئی تھی۔اس مرتبہ کی صورتحال میں تھوڑی بہت تبدیلی آئی ہے،عوام کی ایک بڑی تعداد کا جھکاو واضح طور پر پاکستان تحریک انصاف کی جانب ہے ۔

تاہم مسلم لیگ ن کے حامی ابھی بھی مسلم لیگ ن کے ساتھ کھڑے ہیں ۔اردوپوائنٹ کی جانب سے رخشان میر اس حلقے میں سروے کرنے پہنچے تو جہاں عوام کا جوش و خروش نظر آیا وہیں سیاسی درجہ حرارت بھی بڑھا ہوا تھا،سروے کے دوران ہی پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے کارکنان ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے تاہم اس کے بعد مسلم لیگ ن کے حامیوں نے علاقے میں ترقیاتی کاموں کی بنیاد پر مسلم لیگ ن کو ووٹ دینے کا اعلان کیا جبکہ تحریک انصاف کے کارکنان نے مسلم لیگ ن کی جگہ تبدیلی کے نعرے لگائے،دیکھئیے اردو پوائنٹ کا خصوصی سروے رخشان میر کے ساتھ۔