دُبئی: نواز مخالف کیک کی تصویر نے مقبولیت کی انتہا کو چھُو لیا

شوقیہ کیک بنانے والی پاکستانی خاتون کو اب تک سینکڑوں آرڈر موصول ہو چکے ہیں

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعرات جولائی 16:11

دُبئی: نواز مخالف کیک کی تصویر نے مقبولیت کی انتہا کو چھُو لیا
دُبئی( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔12 جُولائی 2018) سابق وزیر اعظم نواز شریف کو عدالت سے بدعنوانی کے الزامات کے تحت دس سال قید کی سزا سُنائے جانے پر کہیں ماتم برپا ہے تو کہیں شادیانے بجائے جا رہے ہیں۔ تاہم دُبئی میں مقیم خاتون پر اُس کی جانب سے نواز مخالف کیک بنانے پر سینکڑوں آرڈرز کی برسات ہو چُکی ہے اور یہ سلسلہ ابھی تھمنے کو نہیں آ رہا۔

پاکستان کے شہر کراچی سے تعلق رکھنے والی خاتون خدیجہ احمد اپنے شوق کی تسکین کے لیے کیک بناتی ہے۔ 6 جولائی 2018ء کو نواز شریف کی سزا کے بعداُس نے کیک تیار کر کے اُس پر ایک تصویر بنائی جس میں نواز شریف جیل کی سلاخوں کے پیچھے قیدیوں کے لباس میں دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کیک پر 'Gone'کا ٹائٹل بھی تحریر کیا گیا ۔ خاتون کے مطابق اُس نے یہ کیک صرف تفریح طبع کے طور پر بنایا تھا۔

(جاری ہے)

وہ خود کسی جماعت کی حامی نہیں ہے تاہم اُس کا خاوندعمران خان کا سپورٹر ہے۔ اُسی کی جانب سے یہ آئیڈیا دیا گیا۔تاہم خدیجہ کو اندازہ نہیں تھا کہ کیک کی یہ تصویر اتنی وائرل ہو جائے گی۔ خدیجہ ایک گھریلو خاتون ہے جو کیک شوقیہ بناتی ہے۔ مذکورہ تصویر والا تین پونڈ کا کیک جو 6 جولائی 2018ء کو بیک کیا گیا‘ اسے خدیجہ کی ایک سہیلی نے 300درہم کے عوض خریدا اور اُسی کے گھر میں کیک کاٹ کر نواز شریف کی سزا کا جشن منایا گیا۔

خدیجہ کے مطابق ’’ہم اپنے مُلک میں تبدیلی چاہتے ہیں اور اسی مقصد کے لیے عمران خان کو سپورٹ کر رہے ہیں۔‘‘خدیجہ نے فیس بُک پر ’’شُوگر کیوب‘‘ کے نام سے اپنا پیج بنا رکھا ہے جہاں پر وہ اپنے تیار کیے گئے کیکس کی تصویریں پوسٹ کرتی ہے۔ نواز شریف کی جیل کی سلاخوں کے پیچھے موجودگی ظاہر کرنے والا کیک وائرل ہونے کے بعد خدیجہ کو اسی نوعیت کا کیک بنانے کے لیے فرمائش پر فرمائش موصول ہو رہی ہے۔

خدیجہ کے مطابق ’’زیادہ تر آرڈر پاکستان سے موصول ہو رہے ہیں تاہم میں ان آرڈرز کو پُورا کرنے سے قاصر ہوں۔ البتہ متحدہ عرب امارات کے رہائشیوں کے لیے کیک کی فرمائش ضروری پُوری کروں گی۔‘‘ خدیجہ عرب امارات میں گزشتہ دو برس سے مقیم ہے اور اپنی سکول کی پڑھائی کے دور سے ہی بیکنگ کے جنون میں مبتلا ہے۔ اُس کی والدہ اور نانی بھی بیکنگ کا انتہائی شوق رکھتی تھیں۔ باقی بہت کچھ اُس نے یو ٹیوب سے بھی سیکھا ہے۔