متحدہ عرب امارات کی کابینہ نے ریٹائرڈ غیر ملکی ترکین وطن کو پانچ سال کا قابل تجدید رہائشی ویزا دینے کے قانون کی منظوری دیدی

جمعہ ستمبر 06:01

متحدہ عرب امارات کی کابینہ نے ریٹائرڈ غیر ملکی ترکین وطن کو پانچ سال ..

ابوظہبی (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین / وام / جمعہ ستمبر ) متحدہ عرب امارات کی کابینہ نے 55 برس سے زائد عمر کے ریٹائرڈ غیر ملکی ترکین وطن کو خصوصی حالات میں پانچ سال کے لئے قابل تجدید رہائشی ویزا دینے کے قانون کی منظوری دیدی ہے.

اس قانون پر 2019 سے عملدرآمد کیا جائے گا، اور اس طویل مدتی ویزے کے لئے 2 ملین درہم کی جائیداد میں سرمایہ کاری، یا 1 ملین درہم سے زائد کی سیونگزیا پھر 20 ہزار درہم سے زائد کی ماہانہ آمدن کی شرائط رکھی گئی ہیں.

(جاری ہے)

کابینہ کے اجلاس کی صدارت نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے کی، جس کے دوران کئی اہم فیصلے کئے گئے ان میں صنعتی شعبے کوسہارا دینے کے لۓ ایک قرارداد کی منظوری بھی شامل ہے.

جس کے تحت بڑی، درمیانے درجہ اور چھوٹی فیکٹریوں کے لئے بجلی کی استعمال کی فیس میں کمی متعارف کی گئی ہے.

شیخ محمد بن راشد نے کہا کہ "آج ہم نے صنعتی شعبے کی ترقی کے لئے ایک پروگرام کا آغاز کیا ہے، ہم متحدہ عرب امارات کو عالمی نقشے پر سرمایہ کاری کی ایک پرکشش منزل کے طور پر متعارف کرانے کا عہد کیا ہے جو پائیدار ترقی کے موقع فراہم کرے گا."

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم مختلف سرکاری اداروں کے درمیان تعاون کے ذریعے ایک پائیدار صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں ، ہمارا مقصد سبز معیشت کے لئے ایک مضبوط ماڈل کا قیام ہے تاکہ مستقبل کی نسلوں کے لئے اپنے ماحول کو محفوظ بنایا جاسکے."

اس پروگرام کے تحت صنعتی شعبے کے لئے بجلی کے استعمال کے ٹیرف کم کئے جائیں گے جس پر عمل درآمد اس سال کے چوتھی سہمائی میں کیا جائے گا، اور مائع ایندھن جیسے غیر ماحول دوست وسائل پر انحصار کم کر کے پائیدارترقی کا ہدف حاصل کیا جائے گا.

بڑی فیکٹریوں کی مدد کے لئے بجلی کےاستعمال کے اخراجات میں 29 فیصد تک کمی لائی جائے گی ، جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی فیکٹریوں کے لئے چارجز میں 10 فیصد سے 22 فی صد کمی کی جائے گی ، نئی فیکٹریوں کے لئے سروس کنکشن فیس ختم کر دی گئی ہے.

کابینہ نے "ایک دن کی عدالت" کے نظام کو شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے تاکہ کمیونٹی کو تیز ترین اورموثر خدمات فراہم کی جاسکیں .

"ایک دن کی عدالت" میں معمولی فوجداری مقدامات کو نمٹایا جائے گا.