عمران خان مرکزیت پسند، لبرل یا طالبان خان ہیں؟

مجھے یقین نہیں کہ عمران خان اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں تاہم وہ متعدد لوگوں کے لیے بہت کچھ ہیں، بھارتی ماہر تلک دیوا شیر

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل ستمبر 13:22

عمران خان مرکزیت پسند، لبرل یا طالبان خان ہیں؟
لاہور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 25 ستمبر 2018ء) : قومی اخبار کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور پاک فوج کا ایک ہی کتاب کے ایک صفحے پر ہونا دو دھاری تلوار ثابت ہو سکتا ہے۔پاکستان میں تعیناتی کے بعد بھارتی دارالحکومت کے کیبنٹ سیکرٹریٹ سے ریٹائرڈ ہونے والے بھارتی ماہر اور مصنف تلک دیوا شیر نے انڈین ایکسپریس کے فورم میں گفتگو کرتے ہوئے مختلف سوالات کے جوابات دیے۔

ان سے پوچھا گیا کہ عمران خان مرکزیت پسند،لبرل یا طالبان خان ہیں؟۔تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے یقین نہیں کہ عمران خان اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں تاہم وہ متعدد لوگوں کے لیے بہت کچھ ہیں۔نظریاتی لیبلز سے آگے ان کی وزارت عظمیٰ کے دور میں تین معاملات ممتاز رہیں گے۔اول یہ کہ وہ اسلامی فلاحی ریاست پر یقین رکھتے ہیں۔

(جاری ہے)

ان کے مطابق مسائل کے پہاڑ کے باعث پاکستان اسلام کے اخلاقی اصولوں کے مطابق جمہوری سیاسی نظام متعارف نہیں کرا سکا۔

جس میں قانون کا نفاذ، انصاف اور فلاح و بہبود سامل ہے۔دوئم، وہ بد عنوانی کے خلاف لڑ رہے ہیں۔تاہم اب عمران خان کا نام نہاد الیکٹیبلز سے نمٹنا ہو گا جن پر بد عنوانی کا داغ ہے۔یہ دیکھنا دلچسپ ہو گا کہ وہ انصاف کی لڑائی میں کہاں تک جا سکتے ہیں۔بھارتی ماہر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم جغرافیہ سے جان نہیں چھڑا سکتے۔ایسا کرنا ممکن نہیں اور نہ ہی ایسا سوچنا چاہئیے۔ہمارا پڑوسی مشکل ہے تو اس نمٹنا ہے، اس سے دور نہیں جا سکتے۔سارک کانفرس سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ کہ مجھے یہ امید نہیں کہ یہ بد ستور فعال ہے۔ہمیں عالمی فورمز کی ضروت ہے جہاں برف پگھل سکے۔جہاں دونوں وزرائے اعظم ایک سائیڈ ٹیبل پر مل سکیں۔جیسے پیرس میں نواز شریف اور نریندر مودی ملے تھے۔