سانحہ ماڈل ٹاون میں نواز شریف ،شہباز شریف کو طلب کرنے کا فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ کل فیصلہ سنائے گا

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس منگل ستمبر 20:31

سانحہ ماڈل ٹاون میں نواز شریف ،شہباز شریف کو طلب کرنے کا فیصلہ
لاہور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 25 ستمبر 2018ء) :سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف، سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور سابق وزراء کی طلبی سے متعلق فیصلہ کل سنایا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ کل فیصلہ سنائے گا۔ ٹرائل کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے استغاثہ کیس میں نواز شریف، شہباز شریف سمیت سابق وزرا کو بے گناہ قرار دیا تھا، عوامی تحریک نے ٹرائل کورٹ کے فیصلہ کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی، جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

۔یاد رہے کہ 17جون 2017 کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا،،پی اے ٹی کے کارکنوں کی مزاحمت اور پولیس آپریشن کے نتیجے میں چودہ افراد جاں بحق جبکہ نوے زخمی ہوئے۔

(جاری ہے)

سی روز ہی سانحہ کا مقدمہ ایس ایچ او کی مدعیت میں تھانہ فیصل ٹاؤن میں درج کر لیا گیا، ایف آئی آر نمبر 2004(510)جس میں ساری ذمہ داری عوامی تحریک پر ڈالی گئی۔

۔ایف آئی آر میں ڈاکٹر طاہرالقادری کے بیٹے حسین محی الدین، عوامی تحریک کے جنرل سیکرٹری خرم نواز گنڈاپور، چیف سکیورٹی آفیسر سید الطاف شاہ، شیخ زاہد فیاض سمیت 56 نامزد اور 3 ہزار نامعلوم افراد کو شامل کیا گیا۔سانحہ ماڈل ٹاؤن پر جے آئی ٹی اور جوڈیشل کمیشن کا قیام پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی جس کا عوامی تحریک نے بائیکاٹ کر دیا۔

18جون کو وزیراعلیٰ پنجاب نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لئے چیف جسٹس لاہو رہائیکورٹ کو عدالت عالیہ کے جج کی سربراہی میں انکوائری کمیشن بنانے کی سفارش کر دی۔ عوامی تحریک نے یک رکنی کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے سانحہ کی آزادانہ، غیرجانبدارانہ تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے تین ایسے غیر متنازع، غیر جانبداراور اچھی شہرت کے حامل ججز پر بااختیار جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔سانحہ ماڈل ٹاون کی رپورٹ بھی ایک عرصہ متاثرین کو نہیں مہیا کی گئی تھی جس کچھ عرصہ پہلے عدالت کے حکم پر پبلک کیا تھا۔