سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس کے عدالتی فیصلے پرعملدرآمد سے متعلق کیس میں ایف آئی اے کو ان کیمرہ بریفنگ دینے کی اجازت دیدی

منگل ستمبر 23:26

سپریم کورٹ نے  اصغر خان  کیس کے عدالتی فیصلے پرعملدرآمد سے متعلق کیس ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 ستمبر2018ء) سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس کے عدالتی فیصلے پرعملدرآمد سے متعلق کیس میں ایف آئی اے کو ان کیمرہ بریفنگ دینے کی اجازت دیدی اورکیس کی مزید سماعت ملتوی کرتے ہوئے کہاہے کہ کوئی ادارہ قانون سے بالاتر نہیں اس معاملے میں تمام حقائق قوم کے سامنے آنے چاہیں ،منگل کوچیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے کہاکہ ہمیں بتایا جائے کہ اب تک عدالتی حکم پر کیا عملدرآمد ہوا ہے جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئررضوی نے پیش ہوکرعدالت کو بتایاکہ وزارت دفاع نے اس معاملے پراپنا جواب جمع کرایا ہے، جس کے مطابق سابق فوجیوں کے ٹرائل کے لئے عدالت قائم کردی گئی ہے، عدالت کی جانب سے سویلین افراد کے خلاف کارروائی سے متعلق استفسارپرڈی جی ایف ائی اے بشیر میمن نے بتایا کہ ا س کیس کے بارے میں بعض حقائق ان کیمرہ بتا ئے جاسکتے ہیں ، عدالت چاہے تو بعد میں کھلی عدالت میں بتا دیں گے۔

(جاری ہے)

جس پرچیف جسٹس نے کہاکہ عدالتی کارروائی پر عوامی اعتماد بہت ضروری ہے،جو خفیہ یا حساس معلومات ہیں انہیں سامنے لایا جائے ، کیونکہ کیس میں بڑے ادارے اور افراد کاذکر ہوا، چاہے کوئی کتنا ہی بڑا ہے اسے نہ دیکھا جائے کیونکہ کوئی ادارہ قانون سے بالاتر نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا ہم نے جنرل راحیل شریف کے این او سی کے بارے میں پوچھا تھا اس کاکیا بنا ،کیا ان کے این او سی کی توثیق ہوئی جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اس ضمن میں وزارت دفاع نے سمری کابینہ کو بھجوا دی ہے۔

چیف جسٹس نے تمام اداروں کواس کیس میں ایف آئی اے کے ساتھ تعاون کرنے کاحکم جاری کرتے ہوئے کہاکہ اس کیس کے بار ے میں تمام حقائق قوم کے سامنے آنے چاہئیں، عدالت اس کیس کافیصلہ سناچکی ہے وفاقی حکومت اس پر عملدرآمد کرائے ۔ یادرہے کہ پیسے لینے والوں میں غلام مصطفیٰ کھر، حفیظ پیرزادہ، سرور چیمہ، معراج خالد اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ میاں نواز شریف کا نام بھی سامنے آیا تھا۔

اصغر خان کیس میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ پیسے بانٹنے کا یہ سارا عمل اٴْس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور دیگر قیادت کے علم میں تھا۔سپریم کورٹ نے 2012 میں اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے قائد میاں نواز شریف سمیت دیگر سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم اور 1990 ء کے انتخابات میں دھاندلی کی ذمہ داری مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درنی پر عائد کرتے ہوئے دونوں سابق فوکی افسران کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیا تھا۔مرزا اسلم بیگ اور اسد درانی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں ہی نظرثانی اپیل دائر کر رکھی تھی جسے عدالت مسترد کرچکی ہے۔