نیب ملک کو سو فیصد کرپشن فری بنانے کیلئے میرٹ پر شفافیت، منصفانہ اور پیشہ وارانہ انداز میں کام کرنے کیلئے پرعزم ہے،جسٹس (ر) جاوید اقبال

پاکستان واحد ملک ہے جس کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں مسلسل کمی آ رہی ہے، 2017ء کے مقابلہ میں 2018ء میں نیب کو دگنا شکایات موصول ہوئی ہیں، حالیہ سروے رپورٹ کے مطابق 59 فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں،تمام افسران مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن سسٹم پر عمل کرتے ہوئے شکایت کی جانچ پڑتال، انکوائریوں اور انوسٹی گیشنز کو قانون کے مطابق نمٹائیں، چیئرمین نیب کی ہدایت

پیر اکتوبر 23:19

نیب ملک کو سو فیصد کرپشن فری بنانے کیلئے میرٹ پر شفافیت، منصفانہ اور ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اکتوبر2018ء) چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب قانون کے مطابق ملک کو سو فیصد کرپشن فری بنانے کیلئے میرٹ پر شفافیت، منصفانہ اور پیشہ وارانہ انداز میں کام کرنے کیلئے پرعزم ہے،پاکستان واحد ملک ہے جس کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں مسلسل کمی آ رہی ہے، 2017ء کے مقابلہ میں 2018ء میں نیب کو دگنا شکایات موصول ہوئی ہیں، حالیہ سروے رپورٹ کے مطابق 59 فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں،تمام افسران مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن سسٹم پر عمل کرتے ہوئے شکایت کی جانچ پڑتال، انکوائریوں اور انوسٹی گیشنز کو قانون کے مطابق نمٹائیں۔

پیر کو جاری بیان کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب قانون کے مطابق ملک کو سو فیصد کرپشن فری بنانے کیلئے میرٹ پر شفافیت، منصفانہ اور پیشہ وارانہ انداز میں کام کرنے کیلئے پرعزم ہے، پاکستان نیب کی بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے کوششوں کے باعث سارک ممالک کیلئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان واحد ملک ہے جس کا کرپشن پرسپشن انڈیکس 175ویں سے 116ویں نمبر پر آ گیا ہے۔

گیلپ اینڈ گیلانی کے حالیہ سروے کے مطابق نیب کی بدعنوان عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کیلئے بلاامتیاز احتساب کی پالیسی کے باعث 59 فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کو اپنے قیام سے لے کر اب تک سرکاری، نجی اور انفرادی سطح پر 3 لاکھ 99 ہزار 861 شکایات موصول ہوئی ہیں، اس عرصہ کے دوران نیب نے 13 ہزار 180 شکایات کی جانچ پڑتال، 8 ہزار 587 انکوائریوں اور 4124 انوسٹی گیشن کی منظوری دی جبکہ 3401 بدعنوانی کے ریفرنس متعلقہ احتساب عدالتوں میں دائر کئے گئے ہیں۔

اس وقت ملک بھر کی احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے 1210 ریفرنس زیر سماعت ہیں نیب مقدمات میں سزا کی شرح 77 فیصد ہے جبکہ297 ارب روپے بدعنوان عناصر سے بر آمد کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں جو کہ نمایاں کامیابی ہے۔ جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کی موجودہ انتظامیہ نے ادارہ میں اصلاحات کی ہیں، نیب کے تمام شعبوں آپریشن، پراسیکیوشن، ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ، آگاہی اور تدارک کے مجموعی طریقہ کار اور ادارہ جاتی خامیوں کے تفصیلی تجزیہ کے بعد نیب کو فعال بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصہ کے دوران 2017-18ء کے مقابلہ میں شکایات، انکوائریوں اور انویسٹی گیشنز کی تعداد دوگنا ہے جس سے نیب کی ’’احتساب سب کیلئے‘‘ بلاامتیاز پالیسی کے باعث نیب پر اعتماد کا اظہار ہوتا ہے، نیب کے تمام افسران چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے جنگ کو اپنا قومی فرض سمجھ کر ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے ادارہ جاتی کارکردگی کے جائزہ اور اسے مزید بہتر بنانے کیلئے جامع معیاری مقداری نظام وضع کیا ہے، اس نظام کے تحت گذشتہ تین سال سے نیب کے تمام علاقائی بیوروز کی سہ ماہی اور سالانہ بنیادوں پر کارکردگی کا جائزہ لیا جا رہا ہے، باقاعدہ مانیٹرنگ کے باعث نیب کے علاقائی بیوروز کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے مقدمات کو میرٹ پر بروقت اور مؤثر انداز میں نمٹانے کیلئے شکایت کی جانچ پڑتال، انکوائری، انوسٹی گیشن اور احتساب عدالت میں بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے تک کیلئے 10 ماہ کا عرصہ مقرر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب قانون کے مطابق ملک کو سو فیصد کرپشن فری بنانے کیلئے میرٹ پر شفافیت، منصفانہ اور پیشہ وارانہ انداز میں کام کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی ہدایت پر ادارہ جاتی کارکردگی کے مؤثر جائزہ کیلئے مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن کا نظام وضع کیا ہے جس سے نیب کی آپریشنل مانیٹرنگ اور جائزہ کی صلاحیتوں میں اضافہ میں مدد ملتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے سٹریٹجک منصوبہ بندی کیلئے ضروری اعداد و شمار، کارکردگی میں بہتری کیلئے مدد، نتائج، اثرات کے تناظر میں موجودہ اور مستقبل کے انتظامات میں بہتری کے نظام کے حصول میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظام بہتری کیلئے اہم انتظام ہے اور اس سے ماضی، حال اور مستقبل کے اقدامات کے تسلسل سے فیصلہ سازی میں مدد ملتی ہے جبکہ معیاری اور مقداری تجزیہ کے ذریعے خلاف ورزی کرنے والوں کیلئے سزا کا نظام بھی وضع کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب قانون کے مطابق ملک کو سو فیصد کرپشن فری بنانے کیلئے میرٹ پر شفافیت، منصفانہ اور پیشہ وارانہ انداز میں کام کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے نیب کے تمام افسران کو ہدایت کی کہ وہ مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن سسٹم پر عمل کرتے ہوئے شکایت کی جانچ پڑتال، انکوائریوں اور انوسٹی گیشنز کو قانون کے مطابق نمٹائیں۔