جنوبی پنجاب صوبے پر اتفاق رائے کیلئے پی پی پی اور ن لیگ کی قیادت سے ملاقات کیلئے تیارہوں،

نئے صوبے کے قیام سے وفاق مستحکم ہوگا ، نئے صوبے کے قیام میں تعاون کیلئے تمام چھوٹی سیاسی جماعتیں تیارہیں‘شاہ محمودقریشی

جمعرات نومبر 23:39

جنوبی پنجاب صوبے پر اتفاق رائے کیلئے پی پی پی اور ن لیگ کی قیادت سے ملاقات ..
ملتان۔8 نومبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 نومبر2018ء) وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے اور وہ اس مسئلے پر بلاول بھٹو زرداری اور شہبازشریف سے ملاقات کے لیے تیارہیں۔وہ جمعرات کے روز نامور دانشور ڈاکٹر غضنفر مہدی کے پی ایچ ڈی مقالے ’’ سرائیکی مرثیہ‘‘ کی تعارفی تقریب کے موقع پر منعقدہ سرائیکی ادبی کنونشن سے خطاب کررہے تھے۔

شاہ محمودقریشی نے کہاکہ پی ٹی آئی کے پاس پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے مقابلے میں آٹھ سیٹیں زیادہ ہیں۔تاہم نئے صوبے کے قیام کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ مجھے یقین ہے کہ نئے صوبے کے قیام سے وفاق مستحکم ہوگا تمام چھوٹی سیاسی جماعتیں نئے صوبے کے قیام میں تعاون کے لیے تیارہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف نئے صوبے کے قیام کے حوالے سے پرعزم ہے اور ہمیں یقین ہے کہ جنوبی پنجاب ایک روز الگ صوبے کے طورپر سامنے آئے گا۔

انہوںنے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نئے صوبے کے مسئلے پر100روز مکمل ہونے سے پہلے اتفاق رائے کیلئے کوشاں ہے اور ہم اس بات پر بھی غور کررہے ہیں کہ جب تک جنوبی پنجاب الگ صوبے کا درجہ حاصل نہیں کرتا اس خطے کے لوگوں کو عارضی ریلیف فراہم کردیا جائے۔صوبائی وزیرتوانائی ڈاکٹر اختر ملک نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ملتان کے عوام حالیہ دنوں میں دیگر شہروں کے مقابلے میں جس طرح پرامن رہے وہ قابل ستائش ہے۔

ڈاکٹر غضنفر مہدی نے کہاکہ شاہ محمودقریشی کے والد مخدوم سجاد حسین قریشی بھی اس خطے کے لوگوں کے حقوق کے زبردست حامی تھے۔انہوں نے کہاکہ دریائوں میں صنعتوں کا گندہ پانی شامل ہورہاہے اسے روکا جانا چاہیے تاکہ اس خطے کے ذرخیز اراضی کو بنجرہونے سے بچایا جاسکے۔اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی مظہر عباس راں، شفقت حسین بھٹہ، عبدالحق مجاہد، اقتدارحسین نقوی، مولانا خالد محمودندیم، ظہوردھریجہ، مظہر جاوید، ڈاکٹر محمد سفیان، ڈاکٹر صدیق قادری، نسیم اختر، سبطین رضا لودھی اوردیگرمقررین نے بھی اظہارخیال کیا۔