حکومت اقبال ڈے پر عام تعطیل کا اعلان کرے ،ْچیئر مین سینٹ کی رولنگ

اقبال کا کلام قرآن کی تعلیمات پر مبنی ہے، مصر، ترکی، ایران سمیت کئی ممالک نے کلام سے استفادہ کیا اور تحقیق کی جا رہی ہے ،ْ راجہ ظفر الحق ،ْ شبلی فراز اقبال جیسی شخصیات صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں، اقبال شاعر انقلاب ہیں، علامہ اقبال کے لیکچرز اور تعلیمات کو نصاب کا حصہ بنایا جائے ،ْاراکین

جمعہ نومبر 15:38

حکومت اقبال ڈے پر عام تعطیل کا اعلان کرے ،ْچیئر مین سینٹ کی رولنگ
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 نومبر2018ء) چیئرمین سینیٹر صادق سنجرانی نے اپنی رولنگ میں کہا ہے کہ حکومت اقبال ڈے پر عام تعطیل کا اعلان کرے۔ جمعہ کو اجلاس کے دوران چیئرمین سینٹ نے اقبال ڈے کی مناسبت سے اظہار خیال کرتے ہوئے علامہ اقبال ؒ کے 141 ویں یوم پیدائش پر پاکستان اور تمام امت مسلمہ کو مبارکباد دی اور کہا کہ علامہ اقبال ؒ کی تعلیمات اور فکر سے رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال ؒ کی فکر اور شاعری سے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امت مسلمہ نے رہنمائی حاصل کی۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ علامہ اقبالؒ کی تعلیمات اور شاعری سے استفادہ کریں، ان کی تعلیمات اور پیغام ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ بحث کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے کہا کہ علامہ اقبال ؒ کے کلام، فکر اور فلسفے سے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے مختلف ممالک نے رہنمائی حاصل کی، اقبال کے افکار اور تعلیمات کو عام کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔

(جاری ہے)

قائد حزب اختلاف سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ اقبال نہ صرف محسن پاکستان ہیں بلکہ انہوں نے پہلی بار واضح انداز میں پاکستان کے قیام کی بات کی، برصغیر میں مسلم ہندو فسادات کا حل انہوں نے تجویز کیا، جس پر ان کی زندگی میں عمل نہ ہو سکا، ہمیں ان کے افکار سے فائدہ اٹھانا چاہیے، اقبال کا کلام قرآن کی تعلیمات پر مبنی ہے، مصر، ترکی، ایران سمیت کئی ممالک نے ان کے کلام سے استفادہ کیا اور ان پر تحقیق کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال عالمی سطح پر پاکستان کی شناخت ہیں، بہتر ہوتا کہ ان کے یوم پیدائش پر تعطیل کا اعلان کیا جاتا لیکن ایسا نہیں بھی ہوا تو ان کے افکار و تعلیمات کو عام کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ میں بھی تائید کرتا ہوں اقبالؒ ہمارے لئے ہی نہیں ہر جگہ کے لئے اہمیت اور نمایاں مقام کے حامل ہیں۔

ہماری حکومت ادب، ثقافت، آرٹ کے احیاء پر بھرپور توجہ دے گی، پاکستان اقبالؒ سے جانا چاہتا ہے، قومیں ایسے ہی دانشوروں سے پہچانی جاتی ہیں، آج کے دن کو قومی دن سمجھتے ہوئے ان کے افکار و کردار کو اجاگر کرنا چاہیے۔ آج بھی ویسے ہی حالات کا سامنا ہے جیسے ان کی شاعری کے دور میں تھا۔ شاعری میں صرف تفریح نہیں ہوتی، افکار ہوتے ہیں، ہماری حکومت کو اس پر بھرپور توجہ دینا ہو گی۔

سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے ہمارے جذبات کی ترجمانی کی ہے، اقبال ؒ صرف شاعر نہیں فلسفی بھی ہیں، پوری امت مسلمہ نے ان سے استفادہ کیا ہے، امت کے مسائل کی نشاندہی کی ہے اور قرآن و سنت کی روشنی میں اس کا علاج کیا ہے، اقبالؒ نے مغرب کے سامنے مشرق کا مقدمہ بھی عمدہ طریقے سے پیش کیا ہے، قومیں شاعروں کے ذہنوں میں پرورش پاتی اور سیاستدانوں کے ہاتھوں تباہ ہوتی ہیں، یہ بدقسمتی ہے، اقبال ؒ کے پیغام کو عام کرنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے، ریاستی اداروں کے ذریعے اقبال کے افکار و پیغٓم کو نئی نسل تک پہنچانے کی ضرورت ہے، اقبال کے کلام کو ریاستی اداروں کے ذریعے پھیلانے کا جامع منصوبہ بنایا جائے۔

وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ اقبال ڈے پر تعطیل کے حوالے سے دو آراء تھیں، پھر فیصلہ یہی کیا کہ بچوں کو اقبال ڈے پر فکر اقبال سے روشناس کرایا جائے، قائداعظمؒ نے بھی اقبال ؒ کے فکر کی پیروی کی۔ شیری رحمن نے کہا کہ اقبال ڈے پر حکومت کو تعطیل کے لئے اپوزیشن کی اجازت کی ضرورت نہیں تھی، حکومت چھٹی کر سکتی تھی اگر ہماری اجازت چاہیے تو چین اور سعودی عرب کے دوروں پر لیتے، حکومت کو خود اقدامات کرنے چاہیئں۔

وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ اس معاملے پر متفقہ قرارداد کے لئے اپوزیشن کی رائے لینا ضروری تھا۔ سینیٹر عتیق شیخ نے کہا کہ آج 71 سال بعد ہم یہ طے نہیں کر سکے کہ اقبال ڈے پر چھٹی ہونی چاہیے یا نہیں، علامہ اقبال ؒ ایک سطح پر جانی پہچانی عالمی شخصیت ہیں، نئی نسل کے لے رول ماڈل اقبال ؒ ہونے چاہئیں۔ رانا مقبول احمد خان نے کہا کہ اقبال جیسی شخصیات صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں، اقبال شاعر انقلاب ہیں، علامہ اقبال کے لیکچرز اور تعلیمات کو نصاب کا حصہ بنایا جائے، اقبال ڈے پر تعطیل کی جانی چاہیے تھی۔

سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ علامہ اقبال نے 1931ء میں آلہ آباد میں دو قومی نظریہ پیش کیا اور قائداعظم کو برطانیہ سے واپس بلوایا، پاکستان کی بنیاد اقبال ؒ کی شاعری و فکر ہے۔ نوجوان نسل کو ان کی تعلیمات سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ اقبال ؒ کے پیغام کو عام کیا جائے۔ سینیٹر اورنگزیب خان نے کہا کہ اقبال ڈے کو بھرپور طریقے سے منانا چاہیے۔

سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ علامہ اقبال جتنے بڑے شاعر تھے، اتنے بڑے سکالر تھے، انہوں نے مسلمانوں کی علمی و فکری رہنمائی کی، اسلام کی تعلیمات کی تشریح کی، حضور نبی کریم ؐ کے بارے میں جو اشاعر کہے وہ عشق رسول ؐ میں ڈوبے ہوئے تھے۔ انہوں نے جو سبق ہمیں دیا وہ ہم بھول گئے، ان کے اشعار پر جرمنی سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں سڑکوں کے نام ہیں اور ان پر تحقیق ہو رہی ہے۔ چیئرمین سینٹ نے رولنگ دی کہ حکومت 9 نومبر کو عام تعطیل کا اعلان کرے۔