کے پی کے ،ْچارارب کی گندم پر 13 ارب روپے سود چڑھ گیا ،ْ

سابق حکومتیں ذمہ دار قرار سابقہ حکومتوں نے 2004-5 میں 29 کروڑ روپے ،ْ 2007-8 میں 83 کروڑ اور 2008-9 میں 3 ارب روپے کی خریداری کی ٹی سی پی نے محکمہ خوراک سے 17 ارب روپے کے بقایاجات مانگ لیے ،ْصوبائی حکومت کا تحقیقات کا حکم

منگل نومبر 14:18

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 نومبر2018ء) خیبرپختونخوا میں چار ارب کی گندم پر 13 ارب روپے سود چڑھ گیا اور ٹی سی پی نے محکمہ خوراک سے 17 ارب روپے کے بقایاجات مانگ لیے جبکہ صوبائی حکومت نے تحقیقات کا حکم دیدیا ہے ۔نجی ٹی وی کے مطابق ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے گندم کی مد میں محکمہ خوراک خیبرپختونخوا سے 17 ارب روپے کے بقایاجات مانگ لیے ہیں۔

ادائیگی نہ ہونے کے باعث چار سال میں چار ارب روپے کی گندم پر مارک اپ 13 ارب روپے ہوگیا ہے ،ْصوبائی حکومت نے اس سلسلے میں تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔ وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ اس بات کی تحقیقات ہوگی کہ صوبے کو اتنا نقصان کیوں پہنچایا گیا۔رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے ٹریڈنگ کارپوریشن سے 2004-5 میں 29 کروڑ روپے کی خریداری کی، 2007-8 میں 83 کروڑ اور 2008-9 میں 3 ارب روپے کی خریداری کی۔

(جاری ہے)

اس طرح چار سال میں چار ارب 29 کروڑ روپے کی خریداری کی گئی لیکن صوبائی حکومت نے اس دوران واپس کوئی ادائیگی نہیں کی جس کے نتیجے میں چار سال میں چار ارب 29 کروڑ روپے پر سود بڑھ کر 13 ارب 21 کروڑ روپے ہوگیا ہے۔ٹریڈنگ کارپوریشن نے محکمہ خوراک خیبرپختونخوا کو مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں فوری طور پر 17 ارب 51 کروڑ روپے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا ہے، ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں مارک اپ مزید بڑھ سکتا ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ یہ سابقہ حکومتوں کے کارنامے ہیں جنہوں نے صوبے کو اتنی بڑی رقم میں پھنسا دیا ہے۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے گندم کی خریداری کی تو صوبے کو 9 ارب روپے کا فائدہ ہوا۔ صوبائی حکومت نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دیدیا ہے، معلوم کریں گے کہ یہ گندم کیسے منگوائی گئی اور کہاں استعمال ہوئی اور رقم واپس کیوں ادا نہیں کی گئی۔