صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا پروٹوکول پر اظہار برہمی

بارہا کہا ہے کہ سکیورٹی اپنی جگہ لیکن ایسا پروٹوکول نہیں چاہئیے جو شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث بنے۔ صدرڈاکٹر عارف علوی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ نومبر 13:51

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا پروٹوکول پر اظہار برہمی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 16 نومبر 2018ء) : صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی لاہور ائیر پورٹ پہنچے تو انہوں نے سکیورٹی کے ساتھ پروٹوکول کی گاڑیاں دیکھ کر سخت اظہار برہمی کیا ۔ تفصیلات کے مطابق مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ لہاور ائیر پورٹ پر میرے انتظار میں پروٹوکول کی 32 گاڑیاں موجود تھیں۔

بارہا کہا ہے کہ سکیورٹی اپنی جگہ لیکن ایسا پروٹوکول بالکل نہیں چاہئیے جو شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث بنے۔ٹویٹر پیغام میں انہوں نے کہا کہ پروٹوکول کی 32 گاڑیاں جانے کے بعد ہی میں ائیرپورٹ سے باہر نکلوں گا اور تب تک میں ائیر پورٹ کے اندر ہی انتظار کروں گا۔
32 گاڑیوں کا پروٹوکول لاہور ائیر پورٹ سے واپس گیا تو ڈاکٹر عارف علوی ائیر پورٹ سے باہر نکلے اور گورنر ہاؤس لاہور روانہ ہو گئے۔

(جاری ہے)

گورنر ہاؤس آمد پر وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور گورنر پنجاب چودھری سرور نے ان کا استقبال کیا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور گورنر پنجاب چودھری سروس سے ملاقات جاری ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل حال ہی میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کوئٹہ کا دورہ کیا۔ ان کے دورہ کوئٹہ پر ان کے پروٹوکول کی وجہ سے بد ترین ٹریفک جام ہو گیا تھا۔

زرغون روڈ کی طرف آنے والے تمام راستے بندکر دئے گئے جبکہ کوئٹہ کی سڑکوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جبکہ کئی ایمبولینسز بھی ٹریفک جام میں پھنس گئیں۔ صدر مملکت کی کوئٹہ آمد پر شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مختلف ٹولیوں میں پروٹوکول کی 36 گاڑیاں ائیر پورٹ سے نکلیں اور ان کی آمد کے پیش نظر زرغون روڈ کو بند کر دیا گیا، شہری گھنٹوں لمبی قطاروں میں کھڑے رہے ، صدر مملکت کے منزل پر پہنچنے کے بعد شہریوں کے لیے راستے کھولے گئے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے کوئٹہ میں پروٹوکول نے حکومتی دعووں کی نفی کر دی۔ صدر مملکت کے پروٹوکول لینے پر ٹویٹر صارفین نے بھی انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے تو پروٹوکول نہ لینے اور عوام کے ٹیکس کے پیسے کا بے جا استعمال نہ کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن صدر مملکت کا اس طرح 36 گاڑیوں کا پروٹوکول لینا اور شہریوں کو ٹریفک جام میں قطاروں میں لگنے پر مجبور کرنا حکومتی دعووں کی نفی ہے، حکومت کو چاہئیے کہ قوم سے کیے اپنے وعدے پورے کرے بصورت دیگر موجودہ حکمرانوں اور گذشتہ حکمرانوں میں کوئی واضح فرق نہیں رہے گا۔

گذشتہ حکمرانوں نے بھی عوام کا پیسہ اپنی عیش و عشرت کی زندگی گزارنے پر صرف کیا اور اب اگر موجودہ حکمران بھی یہی کریں گے تو عوام کا اعتماد کھو بیٹھیں گے۔ تاہم آج لاہور ائیر پورٹ آمد پر صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے پروٹوکول کی موجودگی پر اظہار برہمی کیا اور اضافی پروٹوکول واپس بھجوادیا۔