عوام حکومت کے عمر سیف سے عہدہ واپس لینے کے فیصلے پر نا خوش

کیا ہم نے عمران خان کو اس لیے وہ ووٹ دیا کہ وہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں قابل قدر خدمات دینے والے شخص کو ہٹا دیں،پاکستان میں عمر سیف کا کوئی مدِ مقابل نہیں۔ سوشل میڈیا پرصارفین کی بڑی تعداد کا حکومت سے عمر سیف کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ نومبر 15:19

عوام حکومت کے عمر سیف سے عہدہ واپس لینے کے فیصلے پر نا خوش
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔16نومبر 2018ء) عمر سیف کو آئی ٹی یونیور سٹی کی وائس چانسلر شپ اور چیئر مین انفارمیشن ٹیکنالوجی کی پوسٹ سے فارغ کردیا گیاہے۔حکومت نے وائس چانسلر آئی ٹی یونیورسٹی عمر سیف سے چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا اضافی چار ج واپس لے لیا ہے۔عمر سیف نے آئی ٹی کے شعبے میں قابل قدر خدمات سر انجام دی ہیں۔

ان کے دور میں کئی پراجیکٹس متعارف کروائے گئے اور آئی ٹی کے شعبے نے خوب ترقی کی۔یہی وجہ ہے کہ عوام کو حکومت کا عمر سیف سے پی آئی ٹی بی کی سربراہی واپس لینے کا فیصلہ نا گوار گزرا جس کا اظہار انہوں نے سوشل میڈیا پر بھی کیا۔ایک صارف کا کہنا تھا کہ حکومت نے عمر سیف کو چئیرمین پی آئی ٹی بی کے عہدے سے ہٹا کر شدید مایوسس کیا ہے۔

(جاری ہے)

یہ نہیں سوچنا چاہئیے کہ انہیں کس نے تعینات کیا تھا۔

عمر سیف نے اپنے دور میں شاندار کام کیا اور اس کے اچھے نتائج بھی حاصل ہوئے۔حکومت کو اپنے فیصلے کا ایک بار پھر سے جائزہ لینا چاہئیے۔
ایک صارف نے کہا کہ عمر سیف کو عہدے سے ہٹانا یہ بات ثابت کرتا ہے کہ سیاست قومی مفاد سے زیادہ اہم ہے۔حکومت کو ان کے ٹریک کو برقرار رکھنے کے لیے عمر سیف کو سپورٹ کرنا چاہئیے۔
ایک صارف نے کہا کہ حکومت کوو عمر سیف کو اس عہدے سے ہٹاتے ہوئے شرم آنی چاہئیے۔

کیا ہم نے تحریک انصاف کو اس تبدیلی کے لیے ووٹ دیا تھا؟ عمر سیف نے پاکستان میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں اصلاحات لانے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔آج ہم جہاں کھڑے ہیں اس میں عمر سیف کا بہت بڑا ہاتھ ہے
ایک صارف نے اسے حکومت کا بد ترین فیصلہ قرار دے دیا اور کہا کہ اس منصوبے کے لیے عمر سیف کا کوئی مد مقابل نہیں ہے، حکومت کو یہ فیصلہ واپس لے لینا چاہئیے۔

ایک صارف نے کہا کہ یہ فصلہ سن کر افسوس ہوا۔ہم ایک ایسے شخص کے مستحق نہیں ہیں جو ملک کے لیے قابل قدر خدمات سر انجام دے رہا تھا۔
ایک صارف نے کہا کہ آپ کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ایک قابل بندے کو اس عہدے سے ہٹا کر تحریک انصاف اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے گی۔
ایک صارف نے کہا کہ میں عمران خان کی سپورٹر ہوں لیکن ایک قابل آدمی کو عہدے سے ہٹانا درست نہیں۔

حکومت کے ایسے فیصلے اچھا تاثر نہیں چھوڑتے۔کسی کو عہدے سے ہٹانا بہت آسان ہے لیکن یہ پر اثر فیصلہ ثابت نہیں ہوتا۔عمر سیف نے اپنے 7سال میں بہت کام کیا۔
اس کے علاوہ بھی کئی سوشل میڈیا صارفین نے حکومت کے اس فیصلے پر تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ حکومت انہیں اہنے عہدے پر دوبارہ سے بحال کرے۔