تحریک انصاف نے سٹیٹس کو ،کو توڑ کر سٹیٹس کو کی قوتوں کی چیخیں نکال دی ہیں،محمودخان

سابق فاٹا کے سات اضلاع اور چھ ایف آر آئینی طور پر صوبے کا حصہ بن چکے ہیں ، اس سلسلے میں کوئی اگر مگر نہیں ماضی میں حکمرانی اشرافیہ کے ذاتی حرص اور لالچ کے گرد گھومتی رہی ، مگر پی ٹی آئی نے شفاف طرز حکمرانی کی بنیادیں ڈال دی ہیں،وزیراعلی خیبرپختونخوا

پیر نومبر 21:08

تحریک انصاف نے سٹیٹس کو ،کو توڑ کر سٹیٹس کو کی قوتوں کی چیخیں نکال دی ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 نومبر2018ء) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہاہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے سٹیٹس کو ،کو توڑ کر سٹیٹس کو کی قوتوں کی چیخیں نکال دی ہیں۔ سابق فاٹا کے سات اضلاع اور چھ ایف آر آئینی طور پر صوبے کا حصہ بن چکے ہیں ، اس سلسلے میں کوئی اگر مگر نہیں ، اس پر لوگ اپنے دکانیں نہ چمکائیں ۔ہزارہ ، ملاکنڈ ڈویژن، جنوبی اضلاع اور صوبے کے دیگر سیاحتی مقامات کو بطور صنعت فروغ دیا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار اُنہوںنے اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق وزیر سید احمد حسین شاہ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سید احمد حسین شاہ نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی اور اپنے خاندان اورساتھیوں سمیت پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔

(جاری ہے)

وزیراعلیٰ نے سید احمد حسین شاہ اور اُن کے ساتھیوں کی پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا خیر مقدم کیااور کہاکہ پاکستان تحریک انصاف اشرافیہ کے خلاف اور عام آدمی کی فلاح کا ایجنڈا لے کر نکلی ہے ۔

پی ٹی آئی نے اس ملک کے وسائل پر قابض سٹیٹس کو کی قوتوں کو چیلنج کیا اور تبدیلی کا بیڑا اُٹھایا ہے ۔ اُنہوںنے کہاکہ جب سٹیٹس کو کی قوتوں کے مفادات کو خطرات لاحق ہوتے ہیں تووہ تبدیلی کے عمل میں رکاوٹیں ڈالنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ اُنہیں ہر جائز کام ناجائز اور اپنے تمام ناجائز کام جائز نظر آتے ہیںکیونکہ اُن کی نظر صرف اپنے مفادات پر ہوتی ہے ۔

سٹیٹس کو کی قوتوں کے اسی طرز عمل اور سوچ نے پاکستان کو اس نہج پر پہنچایا ہے۔ہم دن بدن قرضوں اور دیگر گوناگوں مسائل میں دھنستے چلے گئے ۔ تحریک انصاف نے پہلی بار مفاد پرست اشرافیہ کو چیلنج کیا اور شعور میں تبدیلی کے سفر کا آغاز کیا ۔ آج لوگوں میں شعور آچکا ہے ، یہی وجہ ہے کہ اُنہوںنے تبدیلی کا ساتھ دیا ہے ۔ یہ تبدیلی اشرافیہ کو ایک آنکھ نہیں بھاتی اسلئے وہ مخالفت کررہے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ ماضی میں حکمرانی اشرافیہ کے ذاتی حرص اور لالچ کے گرد گھومتی رہی ، مگر پی ٹی آئی نے شفاف طرز حکمرانی کی بنیادیں ڈال دی ہیں۔ تبدیلی کیلئے اُٹھائے گئے اقدامات کی وجہ سے اچھی سوچ رکھنے والے عوام وخواص پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے ہیں۔ پی ٹی آئی اس ملک کا مستقبل ہے کیونکہ یہ متوسط طبقے کی واحد نمائندہ جماعت ہے ۔ اسی لئے اشرافیہ پی ٹی آئی کے خلاف نوسر بازیوں پر اُترآیا ہے مگر ہمیں ان کی پرواہ نہیں۔

ہم انسانیت کی فلاح کا ایجنڈا لے کر آگے بڑھتے جائیں گے اور مثبت سوچ رکھنے والے اس قافلے میں شامل ہوتے جائیں گے ۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر قبائلی اضلاع کے صوبے میں انضمام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق فاٹا اب آئینی طور پر صوبے کا حصہ بن چکا ہے ۔لہٰذا اس مسئلے پر لوگ ذاتی دکانیں نہ چمکائیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم قبائلی اضلاع کے مقامی کلچر اور روایات کو فروغ دیں گے ۔

عمائدین کی مشاورت سے مقامی روایات کے مطابق ترقی اور خوشحالی کا ماحول پیدا کریں گے ۔ قبائلی اضلاع بھرپور قدرتی وسائل رکھتے ہیں۔ وہاں صنعت و سیاحت کی ترقی ، نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کی فراہمی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ترجیحات میں شامل ہے ۔ قبائلی اضلاع میں متعدد قدرتی وسائل موجود ہیں جن کو بروئے کار لاکر عوام کی حالت زندگی تبدیل کی جا سکتی ہے ۔

وزیراعلیٰ نے انکشاف کیا کہ ایک درجن سے زائد صوبائی محکموں کو نئے اضلاع تک توسیع دی جا چکی ہے جس کا باضابطہ اعلان ہو چکا ہے ۔ صوبائی محکموں کی توسیع اور نئے اضلاع کی ترقی کا عمل مکمل انضمام تک بتدریج جاری رہے گا۔ اس مقصد کیلئے وفاق بھی وسائل فراہم کرے گااور صوبائی حکومت اپنے طور پر بھی اقدامات کرے گی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ نئے اضلاع میں صوبائی کوٹہ برقرار رکھا گیا ہے ، وہاں کے لوگوں کو انصاف اور میرٹ سمیت ترقی اور خوشحالی کے ہمہ گیر مواقع دیئے جائیں گے تاکہ اُن کا احساس محرومی ختم ہو سکے ۔

وزیراعلیٰ نے صوبے میں موجود سیاحت کی استعداد اور اس سلسلے میں حکومتی حکمت عملی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ملاکنڈ اور ہزارہ سمیت صوبے میں دیگر سیاحتی علاقوں کو ترقی دی جارہی ہے اور نئے سیاحتی سپاٹس ڈویلپ کئے جائیں گے تاکہ مقامی سطح پر سیاحت صنعت کے طورپر اُبھر کر سامنے آئے ۔ ہزارہ ، سوات ، ملاکنڈ اور دیگر علاقوں میں موجود قدرتی خوبصورتی کو سامنے لائیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ ترقی سے محروم اور مختلف آفات و مشکلات سے متاثرہ علاقوں کے انسانی کردار کو بھی سامنے لائیں گے کہ اُنہوںنے ملک سے وفاداری میں کسی حد تک صبر آزما دور دیکھا ہے اور کتنی ہمت اور جرات کا مظاہرہ کیا ہے ۔