سندھ ہائیکورٹ میں محکمہ جنگلات کی ری اسٹرکچرنگ کے خلاف درخواست کی سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کردی

جمعرات دسمبر 20:03

سندھ ہائیکورٹ میں محکمہ جنگلات کی ری اسٹرکچرنگ کے خلاف درخواست کی سماعت ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) سندھ ہائیکورٹ میں محکمہ جنگلات کی ری اسٹرکچرنگ کے خلاف درخواست کی سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کردی ہے ۔

(جاری ہے)

جمعرات کومحکمہ جنگلات میں ری اسٹرکچرنگ کے خلاف درخواست کی سماعت کے موقع پر محکمہ جنگلات نے ری اسٹرکچرنگ کی سمری سے متعلق ریکارڈ پیش کیا ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی نے قانون کے مطابق سمری منظور کی، جبکہ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ نیب زدہ افسران کو نیا کنزرویٹر تعینات کردیا گیا ،چیف کنزرویٹر حبیب اللہ اور ریاض احمد کے خلاف نیب انکوائری جاری ہے، عدالت کا کہنا تھا کہیہ تو سپریم کورٹ کے فیصلوں کی بھی خلاف ورزی ہے ،عدالت نے درخواست گزار سے نیب انکوائری کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی درخواست گزار کا موقف ہے کہ محکمہ جنگلات میں غیر قانونی ردوبدل کرکے کرپٹ افسران کو فائدہ پہنچایا گیا،محکمے کو غیر قانونی طور 3 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے،قانون کے مطابق چیف کنزرویٹو افسر ایک ہونا چاہیئے لیکن اب دو مزید تعینات،تمام اعلی افسران نے محکمہ جنگلات کو تباہ کر دیا ہے،ان افسران کو اعلی عہدوں پر تعینات کیا گیا جن کیخلاف نیب کی انکوائریز بھی چل رہی ہیں ،محکمہ جنگلات کی ری اسٹریکچرنگ کا نوٹیفکیشن معطل کیا جائے،سندھ حکومت نے محکمہ جنگلات کو رواں سال 3 مارچ کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا،محکمہ جنگلات کو ان لینڈ فاریسٹ، منگروز فاریسٹ اور سوشل فاریسٹ میں تقسیم کیا گیاتھا ۔