دالوں میں تقریباً 20سی24فیصد پروٹین موجود ہوتے ہیں جو کہ انسانی غذا کا اہم جزوہیں، محمد رفیق

مونگ اور ماش کے پودوں کی جڑوں میں نائٹروجن فکسنگ بیکٹیریا موجود ہونے کے باعث یہ زمین کی زرخیز ی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں خوراک کو غذائیت کے اعتبار سے بہتر اور متوازن بنانے اور بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دالوں کی پیداوار میں اضافہ انتہائی ضروری ہے،ڈائریکٹرشعبہ دالیں

جمعرات دسمبر 21:50

دالوں میں تقریباً 20سی24فیصد پروٹین موجود ہوتے ہیں جو کہ انسانی غذا کا ..
فیصل آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) دالوں میں تقریباً 20سی24فیصد پروٹین موجود ہوتے ہیں جو کہ انسانی غذا کا اہم جزوہیں۔ مونگ اور ماش کے پودوں کی جڑوں میں نائٹروجن فکسنگ بیکٹیریا موجود ہونے کے باعث یہ زمین کی زرخیز ی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔ علاوازیں خوراک کو غذائیت کے اعتبار سے بہتر اور متوازن بنانے اور بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دالوں کی پیداوار میں اضافہ انتہائی ضروری ہے ۔

ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹرشعبہ دالیں محمد رفیق نے پیداوری منصوبہ دالیں( مونگ ماش ) برائے سال 2019-20کی منظوری بارے منعقدہ اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔چوہدری عبدالغور ڈائریکٹر کوآرڈینیشن پنجاب نے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میںمونگ اور ماش کے پیداواری منصوبہ2019-20کے سلسلہ میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ آئندہ سال پنجاب میں دالوں کے زیر کاشت رقبہ اور پیداواری ٹارگٹ میں اضافہ کیا گیا ہے۔

اجلاس میںمدثر عباس ڈپٹی ڈائریکٹر ریسرچ انفارمیشن ،ڈاکٹرمحمد اسلم باٹنسٹ ایرڈزون ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بھکر،محمد شفیق باٹنسٹ شعبہ دالیں، ڈاکٹر عامر رسول ڈپٹی ڈائریکٹر پیسٹ وارننگ، ریاض احمد اسسٹنٹ انٹومالوجسٹ ، محمد عاشق اسسٹنٹ اگرنومسٹ اور علیم سرور اسسٹنٹ فرٹیلیٹی آفیسر کے علاوہ زرعی ماہرین نے شرکت کی چوہدری عبدالغور نے اجلاس میںشریک زرعی سائنسدانوں کودالوں کی پیداوارمیں اضافہ کے لیے مونگ اور ماش کی نئی اور بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی اقسام کی تیاری کی سفارش کی ۔

محمد رفیق نے بتایا کہ ان کا ادارہ مونگ اور ماش دالوں کی ایسی نئی اقسام وضع کرنے پر کام کررہا ہے جوفی ایکڑ زیادہ پیداواری صلاحیت کے ساتھ خشک سالی کابھی بہتر مقابلہ کرسکیں۔انہوں نے دالوں کی زیادہ پیداوار کے حصول کے لیے جڑی بوٹیوں کی تلفی اور کھادوں کے بروقت استعمال بارے کاشتکاروں کو آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ کاشتکار دالوں کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی کے استعمال سے دالوں کی پیداوار میں خود کفالت حاصل کرسکیں جس سے دالوں کی درآمد پر خرچ ہونے والے کثیر زرمبادلہ کی بچت ہوگی ۔ چند ضروری ترامیم کے بعد پیداواری منصوبہ دالیں 2019-20منظور کرلیا گیا