تھرکول سے آئندہ سال جنوری کے آخری ہفتہ تک بجلی کی پیداوار کا آغاز ہو جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ

جمعرات دسمبر 23:26

تھرکول سے آئندہ سال جنوری کے آخری ہفتہ تک بجلی کی پیداوار کا آغاز ..
مٹھی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ تھرکول سے آئندہ سال جنوری کے آخری ہفتہ تک بجلی کی پیداوار کا آغاز ہو جائے گا، اس پروجیکٹ سمیت تھر میں70 ارب روپے کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ جمعرات کو یہاں جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق یہ بات انہوں نے تھر میں ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے کے لئے تھر کے دورے کے موقع پر کہی۔

اس موقع پر صوبائی وزیر توانائی امتیاز شیخ، صوبائی مشیر مرتضی وہاب بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ اسلام کوٹ کے بختاور ایئرپورٹ پہنچے جہاں ان کا استقبال تھر کے منتخب سینیٹر، ایم این اے اور ایم پی ایز نے کیا۔ بختاور ائیر پورٹ اسلام کوٹ کو سندھ حکومت نے تھر میں سرمایہ کاروں کی سہولت کے لئے تعمیر کیا ہے۔

(جاری ہے)

وزیراعلی سندھ نے کول مائننگ، تھرکول پاور پلانٹ، صحت کی سہولیات کا بھی معائنہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ تھر پاکستان کا مستقبل ہے، جنوری 2019ء میں تھر پاور پلانٹ سے بجلی پیداوار شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت نہ صرف سندھ کے عوام بلکہ پورے پاکستان کی ترقی اور بجلی کے بحران کے خاتمے کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے تھرکول بلاک ٹو پہنچ کر کول مائنننگ کا جائزہ بھی لیا۔ کول مائننگ اور پاور پلانٹ کا کام 96 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ پاور پلانٹ سے بجلی کی شیڈول پیداوار جون 2019ء میں ہونی تھی، اب یہ کام شیڈول سے پہلے جنوری 2019ء کے آخری ہفتے یا فروری کے پہلے ہفتے میں شروع ہوجائے گی، اس پروجیکٹ سمیت تھر میں70 بلین روپے کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت تھر فائونڈیشن کے ذریعی20000 خاندانوں کو ان کے مال مویشی کے لئے چارہ فراہم کر رہی ہے، تھر فائونڈیشن سے اس سال 90 بچے انجنیئرنگ کا ڈپلومہ کر رہے ہیں جبکہ تھر فائونڈیشن اسپتال 2 بلین روپے کی لاگت سے تعمیر ہو رہا ہے، اس اسپتال کو سندھ حکومت50 ملین روپے دی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسپتال کا پہلا بلاک 82 بستروں پر مشتمل ہے جو فروری 2019ء میں کام شروع کرے گا جبکہ یہ اسپتال 250 بستروں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں ماہ 20 دسمبر کو نیا سنہری درس گائوں میں 172 خاندان حکومت کی طرف سے بنائے گئے گھروں میں منتقل ہو جائیں گے، یہ 172 خاندان تھرکول بلاک ٹو سے متاثر ہوئے تھے، ان 172 خاندانوں کو تھرکول میں نوکریاں، ان کے گھروں کا معاوضہ، ہر ایک کو1100 اسکوائر میٹر کا ایک گھر، تعلیم اور صحت کی سہولیات نئے گائوں میں دی گئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پانچ ہزار بچوں کے لئے سندھ حکومت تھر فائونڈیشن کے ذریعے 25 اسکول قائم کر رہی ہے، ان اسکولوں پر کام جاری ہے۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کول مائن کا معائنہ کیا۔ یہ کول مائن 180 میٹر تک نیچے ہے، کول مائن کی150 میٹر کھدائی ہو چکی ہے، 180 میٹر کے بعد30 میٹر کی کول سیم نکلے گی، یہ کول پاور پلانٹ جو کول مائن سے 2.5 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، کو بجلی بنانے کے لئے سپلائی کیا جائے گا۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ تھرکول پاور پلانٹ 660 میگا واٹ بجلی پیدا کرے گا۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کچن گارڈننگ کے پروجیکٹ کا بھی معائنہ کیا، یہ پروجیکٹ ملھانو ولیج میں شروع کیا گیا ہے۔ بعد ازاں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے مٹھی اسپتال کا دورہ کرتے ہوئے وہاں صحت کی سہولیات کی فراہمی کا جائزہ لیا اور اسپتال کے عملے کو مریضوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔