والدین نے ایران سمگل ہونے والے بچوں کی ویڈیو میں اپنی بچی کو پہچان لیا

چھ سالہ فرشتہ نور 19 ستمبر کو مردان سے لاپتہ ہوئی تھی، والدین کا حکومت سے بچی کو بحفاظت پہنچانے کا مطالبہ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ دسمبر 12:14

والدین نے ایران سمگل ہونے والے بچوں کی ویڈیو میں اپنی بچی کو پہچان لیا
مردان (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 07 دسمبر 2018ء) :کنٹینرز کے ذریعے سے ایران سمگل ہونے والے درجنوں بچوں کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد مردان سے لاپتہ چھی سالہ بچی فرشتہ نور کے والدین اپنی بچی کو لیکر فر مند ہونے لگے۔بچی کے والد کا کہنا ہے کہ اس نے کنٹینرز کے بچوں میں اپنی بچی کی شناخت کر لیا ہے اور حکومت اسے بحفاظت پہنچانے میں مدد کرے۔مردان کے شہری علاقہ مقام منڈی شریف آباد سے چھ سالہ فرشتہ نور 19 ستمبر کو اپنے گھر کے سامنے کھیلتے ہوئے لاپتہ ہو گئی تھی۔

سٹی پولیس نے اس حوالے سے نا معلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔گذشتہ روز ایران سمگل ہونے بچوں سے بھرے ایک کنٹینر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو فرشتہ نور کے والد نے بھی یہ ویڈیو دیکھی اور گھر کے دوسرے افراد کو دکھایا جس کے بعد لا پتہ ہونے والی بچی کے خاندان کو یقین ہو گیا کہ ان بچوں میں اس کی تین ماہ قبل لاپتہ ہونے والی بچی بھی شامل ہے۔

(جاری ہے)

واضح رہے گذشتہ روز پاکستانی بچوں کو اغوا کے بعدایران اسمگل کئیے جانے کا انکشاف ہوا تھا ۔بچوں کو آئل ٹینکر میں ڈال کر اسمگل کیا جاتا تھا۔بچوں کو ملک کے مختلف حصوں سے اغوا کیا جاتا تھا اور بعد ازاں انکو آئل ٹینکرز میں چھپا کر ایران لے جایا جاتا تھا۔جن بچوں کو زیادہ ہدف بنایا جاتا ،ان میں مردان ، سوات اور خیبرپختونخواہ کے دیگر حصوں کے بچے شامل ہیں۔

اس معاملے پر ایک تشویشناک ویڈیو سامنے آئی ہے جن میں بچوں کو ٹینکر سے نکالتے اور روتے ہوئے دکھایا جا رہا ہے۔ مقامی این جی او نے اس حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ویڈیو ایران کی ہے اور بچے ایران کے صوبے تافتان میں موجود ہیں۔اس حوالے سے ہیومن رائٹس ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والے 4 بچوں کے والدین نے ہم سے رابطہ کیا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بچوں کی بازیابی کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہے ہیں۔