تمباکو نوشی کے باعث سالانہ 160,100 پاکستان موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں

وزارت قومی صحت سروسز تمباکو نوشی کے استعمال میں کمی لانے کیلئے طلب و رسد میں کمی کیلئے اقدامات کر رہی ہے، پارلیمانی سیکرٹری ہیلتھ ڈاکٹر نوشین حامد کا ورکشاپ سے خطاب

منگل دسمبر 17:58

تمباکو نوشی کے باعث سالانہ 160,100 پاکستان موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 دسمبر2018ء) پارلیمانی سیکرٹری ہیلتھ ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا ہے کہ ملک میں تمباکو نوشی کے باعث سالانہ 160,100 پاکستانی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور اسی لئے وزارت قومی صحت سروسز تمباکو نوشی کے استعمال میں کمی لانے کیلئے طلب و رسد میں کمی کیلئے اقدامات کر رہی ہے، پاکستان نے تمباکو نوشی کو کنٹرول کرنے کے فریم ورک کنونشن پر دستخط کر رکھے ہیں اور صحت عامہ کی پالیسیوں میں بھی تمباکو نوشی پر قابو پانے کیلئے اقدامات کئے ہیں۔

منگل کو انہوں نے وفاقی دارالحکومت میں تمباکو کی صنعت میں مداخلت کے بارے میں ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمباکو کی صنعت کی طرف سے نوجوانوں کو سگریٹ نوشی کا عادی بنایا جا رہا ہے تاکہ یہ نوجوان سگریٹ نوشی چھوڑنے والوں کی جگہ لے سکیں تاہم وزارت قومی صحت سروسز نے اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے طلب و رسد میں کمی کیلئے مؤثر اقدامات کئے ہیں، طلب میں کمی کیلئے اقدامات کے طور پر پاکستان نے سگریٹ کی ڈبیا پر تصویری انتباہ کے سائز میں اضافہ کر دیا ہے اور ہم تصویر انتباہ کا سائز 60 فیصد کئے جانے کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی کارروائی کر رہے ہیں جس پر یکم جون 2019ء سے عملدرآمد شروع ہو جائے گا، ہم تمباکو کی مختلف مصنوعات پر عائد ٹیکسوں میں اضافہ کرنے کیلئے وزارت خزانہ کے ساتھ رابطہ کاری کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

ضمنی بجٹ 2018ء میں سگریٹ کے تیسرے درجہ کی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں تقریباً 46 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ہم نے سگریٹ پرسن ٹیکس عائد کئے جانے کی بھی تجویز دی ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری ہیلتھ نے کہا کہ وزارت نے صحت کے بارے میں محکموںمیں آرٹیکل 5.3 بارے حساسیت پیدا کی ہے، اس سلسلہ میں عالمی ادارہ صحت کے اشتراک سے صوبائی سطح پر ورکشاپس منعقد کی گئی ہیں جبکہ تمباکو کی صنعت کو بھی ٹوبیکو کنٹرول کمیٹیوں سے نکال دیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوان :