نوازشریف کا میڈیکل ٹیسٹ کیلئے اسپتال منتقل ہونے سے انکار

میرے جو بھی میڈیکل ٹیسٹ کرنے ہیں سب جیل میں کیے جائیں،سابق وزیراعظم نوازشریف کا مئوقف، بازوؤں میں درد کی تشخیص ضروری ہے، اسپتال منتقل ہوجائیں، ڈاکٹر عدنان کا مشورہ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ جنوری 17:55

نوازشریف کا میڈیکل ٹیسٹ کیلئے اسپتال منتقل ہونے سے انکار
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 جنوری2019ء) مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف نے اسپتال منتقلی سے انکارکردیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے جو بھی میڈیکل ٹیسٹ کرنے ہیں سب جیل میں کیے جائیں، ڈاکٹر کے مطابق نواز شریف کے بازووں میں درد کی تشخیص ضروری ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائدم اور سابق وزیراعظم نواز شریف سے ان کے ذاتی معالج ڈاکٹرعدنان نے جیل میں ملاقات کی۔

ڈاکٹرعدنان نے نواز شریف سے ان کی صحت بارے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹرعدنان نے نواز شریف سے گفتگو میں آگاہ کیا کہ آپ کے بازوں میں وقفے سے درد کی تشخیص ضروری ہے۔ ڈاکٹرعدنان نے نوازشریف کو ای سی جی، بلڈ اور پیشاب سمیت تمام بنیادی ٹیسٹ کرانے کا مشورہ بھی دیا۔ ڈاکٹر عدنان نے نوازشریف کو مشورہ دیا کہ اسپتال میں داخل ہو کرتفصیلی چیک اپ کروائیں۔

(جاری ہے)

جس پر سابق وزیراعظم نوازشریف نے اسپتال منتقلی کا مشورہ قبول کرنے سے انکار کردیا۔ نوازشریف نے کہا کہ جو ٹیسٹ کرنے ہیں سب جیل میں کیے جائیں۔ واضح رہے آج ن لیگ کے کارکنان نے سابق وزیراعظم اور قائد ن لیگ نوازشریف سے اظہار یکجہتی کے لیے کوٹ لکھپت جیل کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ کارکنان نے نوازشریف کی تصاویر والے پوسٹرز اٹھا رکھے تھے جن پر نوازشریف کے حق میں نعرے درج تھے۔

کارکنان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کیخلاف سیاسی انتقام بند کیا جائے اور انہیں فوری رہا کیا جائے۔ اس موقع پر ن لیگی رہنماء احسن اقبال نےلکھپت جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کودل کا عارضہ ہے۔ ان کے ذاتی معالج کوچیک اپ کی اجازت نہیں دی گئی۔ حکومت ہٹلر کے زمانے کی یادیں تازہ کر رہی ہے۔ ہماری حب الوطنی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ احسن اقبال نے کہا کہ عمران خان کی ایمانداری کا میک اپ اتر چکا ہے۔عمران خان نے قوم کے چندے کے پیسے میں بھی دھوکا کیا ہے۔ حکومت قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکی ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل 2010ء کے سیلاب فنڈ کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنائیں۔