پی ایس ایل 3: شاہین آفریدی نے شاہد آفریدی کی وکٹ لیکر والد کی خواہش پوری کی

شاہین نے آفریدی اور مصباح کو آﺅٹ کرکے اپنی تربیت کے عین مطابق جشن نہیں منایا:بھا ئی ریاض آفریدی

Zeeshan Mehtab ذیشان مہتاب منگل فروری 13:25

پی ایس ایل 3: شاہین آفریدی نے شاہد آفریدی کی وکٹ لیکر والد کی خواہش پوری ..
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔12 فروری 2019ء) 18 سالہ شاہین شاہ آفریدی کی باﺅلنگ دیکھ کروسیم اکرم اور محمد عامر کی نوجوانی کا زمانہ یاد آ جاتا ہے اور ہر کوئی یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ لڑکا کیا خوب وکٹیں لے رہا ہے۔شاہین شاہ آفریدی کا تعلق خیبر ایجنسی کے علاقے لنڈی کوتل سے ہے۔ انکے بڑے بھائی ریاض آفریدی 2004 ءمیں انڈر19 ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے سب سے کامیاب باﺅلر تھے، اسی سال انھوں نے سری لنکا کےخلاف کراچی ٹیسٹ کھیلا تھا جس میں انھوں نے مہیلا جے وردھنے اور کمار سنگاکارا کی وکٹیں حاصل کی تھیں لیکن وہ مزید انٹرنیشنل کرکٹ نہ کھیل سکے،شاہین شاہ آفریدی کے کریئر پر ریاض آفریدی کا گہرا اثر رہا ہے۔

ریاض آفریدی کا کہنا ہے کہ شاہین نے پی ایس ایل3 میں شاہد آفریدی کو آﺅٹ کر کے درحقیقت والد کی خواہش پوری کی ،والد صاحب شاہین سے کہا کرتے تھے کہ جب تم پی ایس ایل میں کھیلو تو تمہیں شاہد آفریدی کو آﺅٹ کرنا ہے۔

(جاری ہے)

شاہین نے شاہد آفریدی کو آﺅٹ کرکے ان کی یہ خواہش پوری کردی لیکن اس نے سینئر کھلاڑیوں کے احترام کے پیش نظر اس کا جشن نہیں منایا ، مصباح الحق کو آﺅٹ کر کے بھی وہ نارمل رہے کیونکہ ہم نے اس کی تربیت ہی اس انداز میں کی ہے کہ بڑوں کا احترام کرنا ہے۔

شاہین شاہ آفریدی نے اپنے فرسٹ کلاس کیریئر کا آغاز ایک اننگز میں8وکٹوں کی دھماکہ خیز کارکردگی سے کیا تھا اور پھر وہ انڈر19 ورلڈ کپ میں 12 وکٹوں کے ساتھ پاکستان کے سب سے کامیاب باﺅلر ثابت ہوئے تھے جس میں آئرلینڈ کےخلاف صرف 15 رنز کے عوض6 وکٹوں کی متاثرکن کارکردگی بھی شامل تھی جس کے بعد وہ گذشتہ سال پاکستان سپر لیگ میں آئے۔پی ایس ایل میں شاہین شاہ آفریدی نے لاہور قلندر کی نمائندگی کرتے ہوئے ملتان سلطانز کےخلاف صرف 4رنز کے عوض 5 وکٹوں کی شاندار کارکردگی دکھائی، اس کارکردگی کے بعد وہ قومی ٹیم کے لیے سلیکشن کے ریڈار پر آ گئے اور پی ایس ایل ختم ہونے کے چند ہفتے بعد ہی ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنا پہلا ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کھیلا جبکہ اپنی دوسری پی ایس ایل کھیلنے سے پہلے ہی بین الاقوامی کرکٹ کے تینوں فارمیٹس میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔