وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران کی اصل وجہ کیا تھی

ڈی جی آئی ایس آئی نے ایرانی خفیہ ایجنسی سے کیا بات کی،سینئر صحافی کا انکشاف

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعرات اپریل 06:08

وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران کی اصل وجہ کیا تھی
لاہور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2019ء)   گزشتہ دنوں وزیر اعظم عمران خان نے ایران کا دورہ کیا جس کے حوالے سے اپوزیشن تو خاصی تلملا رہی ہے مگر عمران خان صاحب خوش ہیں کہ ان کا دورہ کامیاب رہا۔عمران خان کے دورہ ایران سے متعلق مختلف افواہیں سننے کو مل رہی ہیں کیونکہ یہ دورہ اس وقت کیا گیا جب اورماڑہ میں کئی نوجوانوں کو شناخت کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔

عمران خان نے ایرانی ہائی آفیشل سے ملاقاتیں کیں اور خطے میں امن کی صورت حال پیدا کرنے کے حوالے سے بھی بات چیت کی۔عمران خان کا یہ بیان کہ پاکستان کی سرزمین ایران میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی ہے خاصا تنقید کا نشانہ بن رہا ہے جبکہ اس حوالے سے سینئر صحافی صابر شاکر نے انکشاف کیا کہ اس دورے کے پسِ پردہ کچھ اور عزائم تھے ۔

(جاری ہے)

دورے میں عمران خان کے ساتھ ڈی جی آئی ایس آئی لفٹیننٹ جنرل آصف منیر صاحب بھی گئے تھے۔

ڈی جی آئی ایس آئی نے ایران کی خفیہ ایجنسیوں کو وہ تمام شواہد مہیا کیے جن میں یہ واضح تھا کہ ایران کی سرزمین سے دہشت گرد پاکستان میں کارروائیاں کر رہے تھے،بلکہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کا نیٹ ورک ہی ایران سے آپریٹ کیا جا رہا تھا۔عمران خان صاحب نے ایران کی قیادت کو یہ واضح کیا کہ ہم اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اگر ہمارے سعودیہ کے ساتھ تعلقات ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ایران سعودیہ اختلافات میں سعودی عرب کا ساتھ دیں گے بلکہ ہمارے اپنے الگ تعلقات ہیں اور یہ کسی قسم کے تنازعہ کی صورت میں دونوں ملکوں کے درمیان استعمال نہیں ہوں گے۔

ایرانی ایجنسیوں کے سربراہ اور قیادت نے ڈی جی آئی ایس آئی اور وزیراعظم عمران خان کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ ایران کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ایسی کسی بھی کارروائی کی روک تھام کے لیے کسی حد تک بھی کارروائی کی جائے گی اور وہ اپنی سرزمین دہشت گردی کے مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔