طارق بشیر چیمہ نے نئے صوبے کا حکومتی بل بدنیتی پر مبنی قرار دیدیا

یہ منطق سمجھ سے باہر ہے کہ تین اضلاع کا صوبہ نہیں بن سکتا، بہاولپور صوبے کیلئے ریفرنڈم کروا کردیکھ لیں کہ عوام صوبہ چاہتے ہیں یا نہیں، وزیراعظم سے ملاقات میں مطالبات سامنے رکھیں گے۔ وفاقی وزیرطارق بشیر چیمہ کی میڈیا سے گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات مئی 17:11

طارق بشیر چیمہ نے نئے صوبے کا حکومتی بل بدنیتی پر مبنی قرار دیدیا
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔16 مئی 2019ء) وفاقی وزیرطارق بشیر چیمہ نے جنوبی پنجاب صوبے کا حکومتی بل بدنیتی پر مبنی قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منطق سمجھ سے باہر ہے کہ تین اضلاع کا صوبہ نہیں بن سکتا،بہاولپور صوبے کیلئے ریفرنڈم کرواکردیکھ لیں کہ عوام صوبہ چاہتے ہیں یا نہیں، وزیراعظم سے ملاقات میں مطالبات سامنے رکھیں گے۔ وفاقی وزیرطارق بشیر چیمہ نے آج یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شاہ محمود قریشی قابل احترام ہیں۔

لیکن یہ منطق سمجھ سے باہر ہے کہ تین اضلاع کا صوبہ نہیں بن سکتا۔ہمارا صوبہ تو تین اضلاع پر بھی مشتمل رہ چکا ہے اور کام بھی چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں دوصوبے بنانے کا بل موجود ہے۔ہمارے قومی اسمبلی میں ن لیگی دوستوں نے دوصوبوں جنوبی پنجاب اور بہاولپورصوبے کا بل پیش کیا۔

(جاری ہے)

جس میں کہا گیا کہ دوصوبے بنائے جائیں ۔ بل کے الفاظ ہیں کہ بل کی منظوری کی ساتھ ہی صوبوں پر عملدرآمد شروع کیا جائے۔

طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ حکومت کا بل بدنیتی پر مبنی ہے۔ حکومتی بل بدنیتی پراس لیے مبنی ہے کہ حکومتی اراکین پرائیویٹ ممبرزڈے پر اس طرح کے بل نہیں لایا کرتے۔چلے ان کا حق ہے وہ بل لے آئے۔ان کے بل میں ہے کہ بل پاس ہوجائے گا، یہ اسمبلی اسی طرح کام کرے گی۔آئندہ الیکشن میں جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ اگر پنجاب کی تقسیم کرنی ہے توبہاولپور کو اس کا حق دیا جائے اور بحال کیا جائے۔

طارق بشیر چیمہ نے ہمارا عمران خان کے ساتھ اتحاد ہے۔لیکن دونوں جماعتیں ابھی تک صوبوں کے ایشو پر اکٹھی نہیں بیٹھیں، عمران خان نے بہاولپور میں اعلان کیا تھا کہ باقی ساری دنیا جھوٹ بول رہی ہے میں بہاولپور کو صوبہ بناؤں گا۔یہ عمران خان کا بیان جلسے میں آن ریکارڈ ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران اپنے مطالبات ان کے سامنے رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم بہاولپور صوبے کیلئے ریفرنڈم کروالیں اور دیکھ لیں کہ عوام صوبہ چاہتے ہیں یا نہیں۔